رسائی کے لنکس

logo-print

پچھلی سیٹ پر بچوں کا تحفظ، گاڑیوں میں خصوصی آلات لگانے کا فیصلہ


کارپچھلی نشست پر دو بچے خصوصی سیٹوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ فائل فوٹو۔

موٹر گاڑیاں بنانے والی بڑی کمپنیوں نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ان کے درمیان اس چیز پر اتفاق ہو گیا ہے کہ وہ 2025 تک امریکہ میں استعمال ہونے والی تقریباً ہر گاڑی میں ایک خصوصی الارم نصب کریں گے جو گاڑی سے اترتے وقت ڈرائیور کو اس بارے میں خبردار کرے گا کہ وہ پچھلی سیٹ پر موجود چھوٹے بچے کو اکیلا چھوڑ کر نہ جائے۔

یہ فیصلہ چھوٹے بچوں کی ہلاکت کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر کیا گیا ہے، جنہیں والدین، دوران سفر اکیلا چھوڑ کر، کار بند کر کے کچھ دیر کے لیے باہر نکل جاتے ہیں۔

شیشے بند ہونے سے گاڑی کے اندر کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے اور بچہ ہیٹ اسٹروک سے ہلاک ہو جاتا ہے۔

گزشتہ دو عشروں کے دوران امریکہ میں چھوٹے بچوں کی ہلاکتوں کے 800 سے زیادہ واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ صرف پچھلے ہی سال اس طرح کے 53 واقعات سامنے آئے ہیں۔

امریکہ میں ٹریفک قوانین کے تحت چھ سال سے کم عمر بچے کو ایک خصوصی کرسی پر بٹھانے کے بعد اس کرسی کو گاڑی کی پچھلی سیٹ پر رکھنا ہوتا ہے۔ اس کا مقصد کسی حادثے کی صورت میں بچے کی جان بچانا ہے۔

لیکن ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں کہ والدین دوران سفر راستے میں کافی یا کھانے پینے کی کوئی چیز لینے یا کسی اور کام سے کار کو مقفل کر کے نکل جاتے ہیں اور بچے کو کار میں ہی چھوڑ جاتے ہیں۔

کار کے شیشے بند ہونے سے اس کے اندر کا درجہ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے اور آکسیجن کم ہونے لگتی ہے، جس کا نتیجہ بچنے کی ہلاکت کی صورت میں نکلنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

امریکہ میں موٹر گاڑیاں فراہم کرنے والی 20 بڑی کمپنیوں نے، جو مارکیٹ کی کل ضرورت کا 98 فی صد پورا کرتی ہیں، کہا ہے کہ وہ 2025 سے ہر ماڈل کی گاڑی میں ایسے صوتی اور بصری آلات نصب کریں گے جو پچھلی نشست پر بچے کی موجودگی کی صورت میں، اگر والدین گاڑی سے باہر نکلنے لگیں گے تو یہ آلات انہیں اس بارے خبردار کریں گے۔

امریکہ کی موٹر ساز کمپنی جی ایم اس نظام پر پہلے سے ہی کام کر رہی ہے اور وہ اپنے کچھ ماڈلز میں 2016 سے یہ آلات نصب کر رہی ہیں۔

کار ساز کمپنی ہنڈائی نے کہا ہے کہ وہ 2022 سے اپنے تمام امریکی ماڈلز میں یہ نظام نصب کرنا شروع کر دے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG