رسائی کے لنکس

بھارت کے لیے معیشت کی بحالی کرونا وائرس سے بڑا چیلنج ہے


بھارتی شہر احمد آباد میں کرسمس کے موقع پر خواتین ماسک اور سماجی فاصلوں کے ساتھ ایک دعائیہ تقریب میں شریک ہیں۔ 25 دسمبر 2020

بھارت کو کرونا وائرس اور ہمالیالی خطے میں چین کے ساتھ سرحدی فوجی تنازع کی وجہ سےاس سال اقتصادی اور سیکیورٹی معاملات میں کئی عشروں کے سخت ترین مسائل کا سامنا کرنا پڑاہے۔

اس سال مارچ میں بھارت نے کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سخت ترین لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب مہلک وائرس ملک میں پھیلنا شروع ہوا تھا اور متاثرین کی تعداد چند ہزار تک محدود تھی۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے شہروں میں کام کرنے والے لاکھوں افراد کو اپنی بستیوں میں واپس جانا پڑا، بے شمار کاروبار اور کارخانے بند ہوئے جن میں سے اکثر ابھی تک اپنی سرگرمیوں کی طرف لوٹ نہیں سکے ہیں۔

ان تمام احتیاطی تدابیر کے باوجود بھارت میں عالمی وبا کا حملہ شدید ترین رہا۔ سال کے آخر میں بھارت میں موذی وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ سے زیادہ جب کہ اموات ڈیڑھ لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہیں اور اس لحاظ سے بھارت کا شمار امریکہ کے بعد دنیا کے دوسرے سب سے متاثرہ ملک کے طور پر کیا جا رہا ہے۔

کرونا وائرس کی وجہ سے بھارت میں ہزاروں چھوٹے کاروبار بند ہو گئے ہیں اور لاکھوں افراد اپنے روزگار سے محروم ہو چکے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں بھارت معاشی خطرات، صحت کے بحران کی نسبت کہیں زیادہ سنگین ہیں۔

نئی دہلی کے ایک تجریہ کار ارون کمار کہتے ہیں کہ دنیا میں کہیں بھی آپ نے یہ منظر نہیں دیکھا ہو گا کہ لاکھوں افراد خالی پیٹ اور خالی جیب کے ساتھ شہروں میں اپنا روزگار چھوڑ کر اپنی بستیوں میں جانے پر مجبور ہوئے۔ارون نے یہ بات اپریل میں بڑے پیمانے پر شہروں سے مزوروں اور کارکنوں کے انخلا کے حوالے سے کہی۔

نئی دیلی کی ایک مارکیٹ میں لوگ ماسک اور کرونا وائرس سے بچاؤ کی تدابیر کے بغیر خریداری میں مصروف ہیں۔
نئی دیلی کی ایک مارکیٹ میں لوگ ماسک اور کرونا وائرس سے بچاؤ کی تدابیر کے بغیر خریداری میں مصروف ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ یہ لوگ غیر منظم شعبوں میں کام کرتے تھے۔ کرونا وائرس کے لاک ڈاؤن کا سب سے زیادہ نقصان اسی شعبے کو اٹھانا پڑا کیونکہ ان کے پاس سرمایہ بہت محدود تھا اور ان میں سے اکثر کاروبار لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے قابل نہیں رہے۔

بھارت کے معاشی سیکٹر کو سب سے زیادہ نقصان پہنچنے کی وجہ یہ ہے کہ ملک کی تقریباً 90 فی صد ورک فورس، غیر منظم اور بے ضابطہ کاروباروں سے منسلک ہے، جن کی بحالی کے امکانات بہت محدود ہیں۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے اس جھٹکے سے ملکی معیشت تقریباً 9 فی صد تک سکڑ جائےگی جو گزشتہ 40 برسوں کی سب سے شدید کساد بازاری ہے۔

سینٹر فار انڈین اکانومی کا اندازہ ہے کہ اپریل سے جون کے دوران لگ بھگ 12 کروڑ افراد اپنے روزگار سے محروم ہو گئے تھے۔ اگرچہ ان میں سے لاکھوں لاک ڈاؤن کی پابندیاں نرم ہونے کے بعد اپنے کام پر واپس آ گئے تھے لیکن لاکھوں افراد کو اپنا کھویا ہوا روزگار واپس نہیں مل سکا ہے اور وہ سال کے آخر تک اپنی روزی روٹی کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے تھے۔

اگرچہ حکومت نے معاشی شعبے کی مدد کے لیے دو امدادی پیکیج دیے تھے لیکن وزیر خزانہ نرملا ستھیارمن نے کہا ہے کہ حکومت چاہے جتنا بھی سرمایہ فراہم کرے، وہ عالمی وبا کے پیدا کردہ بحران سے نمٹنے کے لیے ناکافی رہے گا۔

تاہم اب بھارت میں کرونا کے کیسز میں بتدریج کمی آ رہی ہے اور کرونا سے بچاؤ کی ویکسین کی جلد دستیابی کے بعد یہ امکانات پیدا ہو گئے ہیں کہ نئے سال میں معیشت بتدریج بہتری کی طرف جانا شروع ہو جائے گی۔بھارتی وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ معیشت کی بحالی کے اشارے مل رہے ہیں۔

لداخ کے علاقے میں بھارت کو چین سے تناؤ کی وجہ سے بڑے پیمانے پر فوجی نقل و حرکت کرنی پڑی۔
لداخ کے علاقے میں بھارت کو چین سے تناؤ کی وجہ سے بڑے پیمانے پر فوجی نقل و حرکت کرنی پڑی۔

جب کہ ماہر اقتصادیات کمار خبردار کرتے ہیں کہ دنیا کے دوسرے سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں قابل ذکر بحالی کے لیے طویل سفر طے کرنا پڑے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ روزگار کی حالت پتلی ہے، سرمایہ کاری کی حالت بھی پتلی ہے۔ صارفین میں اعتماد کی کمی ہے اور حکومت کے پاس بھی وسائل ناکافی ہیں۔ اس صورت حال کے پیش نظر 2021 میں معیشت 2019 کی سطح پر واپس آنے کا امکان نہیں ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنے اب تک کے چھ سالہ اقتدار میں کئی بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جن میں ہمالیائی خطے میں چین کے ساتھ فوجی تناؤ، شہریت کے مسئلے پر مسلمانوں کے احتجاج اور اب زرعی اصلاحات کے بعد کسانوں کے بڑے پیمانے پر مظاہرے شامل ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کرونا کی عالمی وبا دنیا بھر میں قوموں کا امتحان لے رہی ہے۔ لیکن بھارت کو جس نوعیت کے چیلنجز درپیش ہیں، اس کے مدنظر اس امتحان میں کامیابی کے لیے اسے ایک طویل اور کھٹن سفر طے کرنا ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG