رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان: عملہ اغوا ہونے کے بعد غزنی میں ریڈ کراس کی سرگرمیاں معطل


ادھر سویڈن کی ایک امدادی تنظیم نے اس مہلک چھاپے کی مذمت کی ہے جو اس کے بقول افغان فوج نے وسطی افغانستان میں اس کے ایک مرکز صحت پر مارا۔

عالمی امدادی تنظیم ریڈ کراس کے مطابق وسطی افغان صوبے غزنی میں اس کے مقامی عملے کے پانچ افراد کے اغوا کے بعد اس نے وہاں اپنی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں۔

ان پانچ اہلکاروں کو اس وقت اغوا کیا گیا جب وہ صوبے میں ایک ایسی شاہراہ پر سفر کر رہے تھے جہاں اکثر اغوا اور قتل کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔

افغانستان میں ’انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس‘ نے ایک ای میل بیان میں کہا کہ اس نے اغوا کاروں سے رابطہ کیا ہے اور اپنے عملے کے ارکان کی رہائی کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔ یہ افراد منگل کو اغوا ہوئے تھے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ تنظیم نے غزنی میں سرگرمیاں معطل کر دی ہیں اور افغانستان کے دیگر حصوں میں بھی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔ افغانستان میں اس سے پہلے بھی امدادی کارکنوں کو کئی مرتبہ نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

تاہم بیان کے مطابق ملک کے دیگر حصوں میں ریڈ کراس کی سرگرمیاں جاری ہیں۔

ادھر سویڈن کی ایک امدادی تنظیم نے اس مہلک چھاپے کی مذمت کی ہے جو اس کے بقول افغان فوج نے وسطی افغانستان میں اس کے ایک مرکز صحت پر مارا۔

’سویڈش کمیٹی فار افغانستان‘ نے جمعرات کو کہا کہ وردک صوبے کے تانگی سیدن علاقے میں رات کو مارے جانے والے چھاپے میں دو مریضوں سمیت تین افراد ہلاک ہو گئے۔

صوبائی حکومت کے ایک ترجمان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ انہیں افغان سکیورٹی فورسز کی جانب سے بدھ کی رات کی جانے والی ایک کارروائی کے بارے میں علم ہے جس میں چار باغی ہلاک اور دو زخمی ہو گئے تھے جبکہ ایک کو تحویل میں لے لیا گیا تھا۔

تاہم ترجمان کا کہنا تھا کہ انہیں علاقے میں صحت کے مرکز میں کسی مداخلت کا کوئی علم نہیں۔

XS
SM
MD
LG