رسائی کے لنکس

logo-print

حلب سے انخلا جاری، شام کے بارے نئے امن مذاکرات ہو سکتے ہیں: پوٹن


روس کے صدر نے کہا ہے کہ شام سے متعلق امن مذاکرات کا ایک نیا دور شروع کرنے کے بارے میں ان کا ملک ترکی کے ساتھ مل کام کر رہا ہے۔

جاپان کے دورے کے دوران جمعہ کو گفتگو کرتے ہوئے ولادیمیر پوٹن نے کہا کہ وہ اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے شامی حکومت اور حزب مخالف کے درمیان بات شروع کرنے کے تجویز دی ہے جو ممکنہ طور پر قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں ہو سکتی ہے۔

روسی صدر کی طرف سے یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب مزید عام شہری تباہ حال شہر حلب سے نکلنے کی تیاری کر رہے ہییں۔

روسی اور ترکی کی ثالثی میں طے پانے والے عارضی جنگ بندی معاہدے کے بعد جمعرات کو ہزاروں کے تعداد میں لوگ شہر سے چلے گئے۔

اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے جمعہ کو ہونے والے متوقع ہنگامی اجلاس میں حلب کے صورت حال پر غور کیا جائے گا۔

یہ اجلاس فرانس کے مطالبے پر بلایا جا رہا ہے، فرانس چاہتا ہے کہ شہریوں کا انخلا بین الاقوامی مبصرین کی نگرانی میں ہو جو شہر میں کئی سالوں سے جاری رہنے والی لڑائی کے بعد عمل میں آ رہا ہے۔

فرانسیسی سفارت کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ اجلاس "انسانی امداد کے لیے فوری اور بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل رسائی اور عام شہریوں کی مناسب انداز میں انخلا کو یقینی بنانے کے" معاملے کو حل کرے۔

عارضی جنگ بندی کے پہلے طے پانے والے سمجھوتے فوری طور پر ناکام ہونے کی وجہ سے شہریوں کی انخلا کی کوششیں رک گئی۔

جمعرات کو ایمبولینس اور سبز بسوں کے قافلے اس تباہ حال شہر سے باہر نکلے جو شام کی خانہ جنگی شروع ہونے سے پہلے عرب اور مسلمان دنیا کے لیے تاریخی اور ثقافتی طور پر نہایت اہمیت کاحامل رہا ہے۔

ان افراد کو لے کر بسوں کے یہ قافلے حلب کے مشرقی علاقے سے شامی حکومت کے زیر کنٹرول علاقے ہوتے ہوئے باغیوں کے زیر کنٹرول ایک علاقے میں چلے گئے۔

شہر سے نکالے جانے والے بعض عام شہریوں نے اپنے جانے بچ جانے پر اللہ کا شکر ادا کیا، لیکن ا ن کے دوستوں اور رشتہ داروں کی لاشیں ان مہندم ہونے والی عمارتوں کے ملبے تلے دبی ہوئی ہیں جو کسی وقت ان کے گھر، اسکول اور دوکانیں تھیں۔

شامی باغیوں اور سرکاری فورسز نے تین دن کی عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا تاکہ عام شہری یہاں سے نکل جائیں۔ اس سے قبل ہونے والے ایسے سمجھوتوں کے فوری طور پر ناکام ہونے کی وجہ سے لوگوں کے انخلا کی کوششیں رک گئیں۔

روسی فوج کی حمایت سے شامی فورسز کی شہر کے اندر پیش قدمی کے بعدمشرقی حلب کا ایک محدود سا علاقہ باغیوں کے قبضے میں رہ گیا ہے۔ صدر بشار الاسد نے "حلب کے آزاد ہونے" کی بات کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ بن رہی ہے۔۔

اسد کے سرکاری ٹوئٹر پر جاری ہونے والے ایک ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ "آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک تاریخ لکھی جا رہی ہے اور یہ ہر شامی شہری لکھ رہا ہے۔ (تاریخ) لکھنے کا عمل آج شروع نہیں ہوا ہے۔ یہ چھ سال اس وقت شروع ہوا تھا جب جنگ اور بحران شام میں شروع ہوا تھا۔"

دوسری طرف جمعرات کو واشنگٹن میں امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ امریکہ لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے کام جاری رکھے گا اور (اس معاملے کے ) ایک حل کے لیے اور پورے شام میں امدادی اداروں کی مکمل رسائی کی اجازت کے لیے شام کے تمام فریقوں پر زور دیتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ "ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ وہ لمحہ ہے جب شام کی حکومت اور روس فوج کے پاس امن کے لیے ایک فیصلہ کرنے کا موقع ہے اور میں یہ کہنا چاہوں گا کہ وہ اہم فیصلہ ہو گا۔ "

کیری نے کہا کہ "عام شہریوں کی خلاف بلا امتیاز و حشیانہ کارروائیوں کا قطعی کوئی جواز نہیں ہے جو حکومت اور اس کے روسی و ایرانی اتحادیوں کی طرف سے گزشتہ چند ہفتوں اور بلاشبہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران جاری رکھی گئیں۔"

جمعرات کی صبح تشدد کے مزید واقعات کی اطلاعات ملی ہیں اور مقامی میڈیا کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حکومت نواز فورسز نے اس ایمبولینس پر فائرنگ کی جو باغیوں کی زیر کنٹرول علاقے سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی، جس کی وجہ سے کم ازکم تین افراد زخمی ہوئے۔

XS
SM
MD
LG