رسائی کے لنکس

افغانستان کی بدلتی صورت حال، طالبان چین کے لیے اہم کیوں ہو گئے؟


بدھ کو طالبان کی اعلیٰ قیادت نے بیجنگ میں چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی سے ملاقات کی ہے۔

افغانستان سے امریکہ کا انخلا شروع ہونے کے بعد سے چین اور طالبان کے تعلقات میں گرم جوشی بڑھتی جا رہی ہے اور بدھ کو طالبان کی اعلیٰ قیادت نے چین کا دورہ کیا ہے۔

چین کے شمالی شہر تیانجن میں وزیر خارجہ وینگ یئ نے طالبان کے سیاسی سربراہ ملا عبدالغنی برادر سے ملاقات کی جس میں انہوں نے طالبان پر چین مخالف مشرقی ترکستان اسلامی تحریک (ای ٹی آئی ایم) سمیت تمام دہشت گردوں کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات ختم کر نے پر زور دیا۔

چین میں ہونے والی اس ملاقات میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کے دفتر کے سربراہ ملا برادر نو ارکان پر مشتمل وفد کے ساتھ شریک ہوئے۔

ملاقات کے بعد چین کی وزارتِ خارجہ نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ’ایسٹ ترکستان اسلامک مومنٹ‘ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے قرار دی گئی دہشت گرد تنظیم ہے اور اس سے مقابلہ بین الاقوامی برادری کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ چین امید کرتا ہے کہ افغان طالبان اس تنظیم اور دیگر دہشت گرد گروہوں سے اپنے راستے بالکل جدا کرلیں گے۔

ٹوئٹ میں کہا گیا ہے کہ امید ہے کہ طالبان افغانستان کے قومی مفاد کو ترجیح دیں گے اور امن مذاکرات کا وعدہ برقرار رکھیں گے۔ امن کے مقصد کو اپنائیں گے، اپنا مثبت تاثر بنائیں گے اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کی سیاست اختیار کریں گے۔

اس ملاقات میں طالبان نے ایک بار پھر ’ای ٹی آئی ایم‘ سمیت دیگر دہشت گرد گروہوں سے راستے جدا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

اگرچہ افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی اور کام یابی کے بڑے دعوؤں کے بعد یہ طالبان کا پہلا دورۂ چین ہے لیکن طالبان سے متعلق چین کے تحفظات کے باوجود فریقین میں روابط تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔​

طالبان کی پیش قدمی کو چین کس طرح دیکھتا ہے؟

گزشتہ دنوں چین کے اخبار ’گلوبل ٹائمز‘ کے چیف ایڈیٹر ہوشی جن نے ’’طالبان کو دشمن بنانا چین کے مفاد میں نہیں‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا۔

گلوبل ٹائمز چین کی حکمران کمیونسٹ پارٹی کا ترجمان اخبار تصور ہوتا ہے اور اس میں چین کے قومی نکتۂ نظر سے بین الاقوامی امور پر تبصرے شائع کیے جاتے ہیں۔

ہوشی جن کے اس مضمون اور گلوبل ٹائمز سمیت چینی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے تجزیات اور تبصروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ افغانستان میں بدلتی صورتِ حال اور بالخصوص طالبان کی پیش قدمی کو چین میں کس انداز سے دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کی حالیہ صورتِ حال میں چین کے لیے خطرات اور مواقع دونوں پوشیدہ ہیں اور اپنے داخلی حالات اور معاشی مفادات کی وجہ سے خطے میں استحکام بیجنگ کی ضرورت ہے۔

چین اپنے بین الاقوامی معاشی و تجارتی منصوبے 'بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو' کو افغانستان اور اس کے ذریعے پورے وسطی ایشیا تک وسعت دینا چاہتا ہے جس کے لیے لامحالہ کابل میں ایک معاون اور مستحکم حکومت ہونا ضروری ہے۔

ماہرین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے انخلا کے بعد جنم لینے والی صورتِ حال میں چین افغانستان کے کسی مقامی فریق کے پلڑے میں اپنا سارا وزن نہیں ڈالنا چاہتا۔

ریڈیو فری یورپ کے پروجیکٹ ’گندھارا‘ کے مطابق لندن رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے سینئر ایسوسی ایٹ رفیلو پینٹوچی کا کہنا ہے کہ چین کو اس بات کا امکان نظر آ رہا ہے کہ طالبان اقتدار حاصل کرلیں گے۔ لیکن چین افغانستان کے مسائل میں براہِ راست ملوث بھی نہیں ہونا چاہتا تو اس کا واضح مطلب یہی نکلتا ہے کہ اسے طالبان سے روابط پیدا کرنا ہوں گے۔

چین طالبان کو اہم کیوں سمجھتا ہے؟

افغانستان کے ساتھ چین کی صرف 76 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ دنیا کے قدیم ترین بین الاقوامی تجارتی راستوں میں شامل شاہراہِ ریشم یا سلک روڈ بھی افغانستان ہی سے ہوکر گزرتی تھی اور اسی راستے سے بدھ مت چین اور جاپان تک پہنچا تھا۔

افغانستان 1885 میں چین کا پڑوسی بنا جب اس وقت کی دو بڑی عالمی قوتوں روس اور برطانیہ کے درمیان ہونے والی حد بندی کے نتیجے میں واخان راہداری وجود میں آئی۔ یہ مختصر زمینی پٹی افغانستان کو چین، تاجکستان اور پاکستان سے ملاتی ہے۔

واخان راہداری افغانستان کو چین، پاکستان اور تاجکستان سے ملاتی ہے۔
واخان راہداری افغانستان کو چین، پاکستان اور تاجکستان سے ملاتی ہے۔

چین کو ہمیشہ سے افغانستان کی جانب سے خطرات لاحق رہے ہیں۔ چین کو کبھی افغانستان میں حریف ممالک کی فوجی قوت سے تشویش رہی ہے تو وہاں کبھی عسکری تنظیموں سے متعلق خدشات کا سامنا رہا ہے۔ گزشتہ دہائیوں میں آنے والی تبدیلیوں کے باعث افغانستان مسلسل چین کے لیے اہمیت اختیار کرتا جارہا ہے۔

یکم اکتوبر 1949 کو جب ماؤزے تنگ نے ’عوامی جمہوریہ چین‘ کے قیام کا اعلان کیا تھا تو افغانستان نے چند ماہ بعد ہی جنوری 1950 میں اسے تسلیم کرلیا تھا۔

تجزیہ کار اور مصنف اینڈریو اسمال اپنی کتاب ’دی چائنا پاکستان ایکسز‘ میں لکھتے ہیں کہ افغانستان نے عوامی جمہوریہ چین کو جلد تسلیم کرلیا تھا۔ لیکن چین نے افغانستان سے تعلقات بڑھانے میں سست روی دکھائی اور 1955 میں دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔ خطے کے دیگر ممالک کے برعکس چین نے افغانستان کی کمیونسٹ پارٹیوں میں زیادہ دل چسپی نہیں لی۔

افغانستان میں 1970 کے بعد سامنے آنے والی سیاسی تبدیلیوں سے وہاں سوویت یونین کا اثر بڑھنا شروع ہوا۔ 1978 کے انقلابِ ثور اور 1979 میں حفیظ الامین کے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد چین نئی قائم ہونے والی حکومت کو تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہا اور اس پر یہ واضح نہیں تھا کہ آیا اس تبدیلی کے پیچھے ماسکو ہے یا نہیں۔ لیکن 1979 میں سوویت یونین نے حملہ کیا تو افغانستان مکمل طور پر سوویت دائرۂ اثر میں آگیا۔

چین اورسوویت یونین کے درمیان کمیونزم کے مستقبل اور تعبیر و تشریح سے متعلق اختلاف 1963 میں کھل کر سامنے آچکے تھے اور اس نظریاتی اختلاف نے ان دونوں ممالک کو ایک دوسرے کا حریف بنا دیا تھا۔ اس وجہ سے چین کے لیے اپنے پڑوس میں سوویت یونین کی افغانستان میں اپنی عسکری قوت کے ساتھ موجودگی باعثِ تشویش تھی۔

اینڈریو اسمال نے لکھا ہے کہ اپریل 1979 میں امریکہ کو اپنے افغان ذرائع سے معلوم ہوا کہ چین سوویت یونین کے خلاف افغان ’مجاہدین‘ کی مدد کے لیے آمادہ ہے۔ 1980 میں افغانستان چین کی توجہ کا مرکز بن گیا اور پھر انڈریو اسمال کے بقول عوامی جمہوریہ چین کے سب سے بڑے غیر ملکی خفیہ آپریشن کا آغاز ہوا۔

اینڈریو اسمال کی تحقیق کے مطابق امریکہ سوویت یونین کے خلاف مزاحمت کرنے والوں کی براہِ راست ذمے داری سے بچنے کے لیے انہیں اپنے تیار کردہ ہتھیار نہیں دینا چاہتا تھا۔ اس حکمتِ عملی کی وجہ سے امریکہ کو کمیونسٹ ممالک سے ہتھیاروں کی خریداری کرنا پڑی جس میں سب سے زیادہ ہتھیار چین سے خریدے گئے۔

افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف مزاحمت کے پورے عرصے میں چین یہاں متحرک رہا۔ سوویت یونین کے اںخلا کے بعد چین نے افغانستان سے فاصلہ اختیار کر لیا لیکن سوویت یونین کے خلاف مزاحمت سے جنم لینے والے عسکریت پسند گروہوں اور جہادی تنظیموں سے متعلق خدشات کے باعث چین ایک بار پھر افغانستان کی جانب متوجہ ہوا۔

نوے کی دہائی میں طالبان ایک قوت کے طور پر ابھرنے لگے تو چین نے ان سے رابطے شروع کر دیے تھے۔

’گندھارا‘ کے لیے اپنی رپورٹ میں ریڈ اسٹینڈش لکھتے ہیں کہ چین نے کسی ممکنہ شدت پسندی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے طالبان سے روابط بڑھانا شروع کیے۔ یہ رابطے پاکستان کے ذریعے ہو رہے تھے۔

چینی حکام نے 1999 میں کابل کا دورہ کیا اور سفارتی و معاشی تعلقات قائم کرنے کے لیے بات چیت کا آغاز کیا۔

چین اس وقت طالبان کی افغانستان میں حکومت کے سربراہ ملا عمر سے براہِ راست ملاقات چاہتا تھا۔ سن 2000 میں چینی سفارت کاروں کے ایک وفد کی بالآخر ملا عمر سے ملاقات ہوگئی جس میں انہوں نے ملا عمر پر ایغور 'عسکریت پسندوں' کو مدد فراہم کرنے سے گریز کرنے پر زور دیا۔

اس کے بدلے میں طالبان کو چین سے اقوامِ متحدہ میں ان پر عائد پابندیاں ختم کرانے کے لیے مدد کی امید تھی۔

مبصرین کے مطابق ملا عمر نے 'ای ٹی آئی ایم' کو محدود کیا لیکن اسے افغانستان سے بے دخل نہیں کیا۔ اس معاملے پر چین اور طالبان کے درمیان کوئی باقاعدہ معاہدہ طے نہیں ہو سکا تھا اور بالآخر نائن الیون کے حملوں کے بعد طالبان کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔

اینڈریو اسمال نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ طالبان سے چین کے رابطے اس قدر بڑھ چکے تھے کہ اگر نائن الیون کے واقعات نہ ہوتے تو شاید چین طالبان کی حکومت تسلیم کرنے والا پہلا غیر مسلم ملک بن جاتا۔

اقتدار ختم ہونے کے بعد طالبان کی اعلیٰ قیادت مبینہ طور پر پاکستان منتقل ہو گئی اور اینڈریو اسمال کے بقول اسلام آباد نے ایک بار پھر چین اور طالبان کے درمیان روابط بحال کرنے میں مدد فراہم کی۔

سن 2014 میں طالبان نے چین کا باقاعدہ دورہ کیا اور اس کے بعد سے دونوں کے درمیان رسمی اور غیر رسمی روابط کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہو گیا جو اب تک جاری ہے۔

گزشتہ برسوں میں طالبان اور چین کے بڑھتے ہوئے روابط پر حال ہی میں 'ایسوسی ایٹڈ پریس' سے بات کرتے ہوئے محقق اینڈریو اسمال کا کہنا تھا کہ چین طالبان کے ساتھ ڈیل تو کرسکتا ہے لیکن اس کے لیے طالبان کا مذہبی ایجنڈا ہمیشہ عدم اطمینان کا باعث رہے گا۔

یہی وہ خدشات ہیں جن کی باز گشت چینی میڈیا میں بھی سنائی دیتی ہے۔

ہوشی جن نے بھی چین کے طالبان سے روابط کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حالیہ برسوں میں چین کے بعض سرکاری اداروں کے طالبان سے رسمی و غیر رسمی رابطے رہے ہیں اور چین کبھی سرکاری سطح پر اس نتیجے پر نہیں پہنچا کہ طالبان مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) کی معاونت کرتے ہیں۔

چین کے خدشات کیا ہیں؟

افغانستان کی حدود میں شامل دشوار گزار ’واخان راہداری‘ چین کے مغربی صوبے سنکیانگ سے ملی ہوئی ہے۔ چین کے اسی صوبے میں مسلمان ایغور آباد ہیں۔ امریکہ سمیت بعض ممالک کا الزام ہے کہ ایغور آبادی کو ریاستی جبر کا سامنا ہے اور وہ ایک طرح سے جیل میں قید ہیں۔ لیکن چین ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

اس علاقے میں ’ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ‘ (ای ٹی آئی ایم) نامی تنظیم بھی متحرک ہے جو چین سے آزادی حاصل کرکے اس علاقے میں ’مشرقی ترکستان‘ قائم کرنا چاہتی ہے۔ چین کا الزام ہے کہ یہ تنظیم مسلح کارروائیوں میں بھی ملوث ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے مطابق 'ای ٹی آئی ایم' کا اپنے قیام ہی سے طالبان اور القاعدہ سے قریبی تعلق رہا ہے۔ اس کے بانی حسن معصوم کو اکتوبر 2003 میں ایک آپریشن میں پاکستانی فوج نے ہلاک کر دیا تھا۔

یہ تنظیم 2007 کے بعد سے وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا میں متحرک ہے اور سیکیورٹی کونسل کے مطابق اسے طالبان کی مدد بھی حاصل رہی ہے۔ طالبان کے ساتھ چین کے رابطوں میں یہ تنظیم زیرِ بحث رہتی ہے۔

چین کو یہ خدشہ رہا ہے کہ ایغور علیحدگی پسندوں کو افغانستان سے مدد حاصل ہوسکتی ہے۔ اس لیے یہاں پیدا ہونے والے حالات پر چین کی گہری نظر رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ چین میں بھی طالبان کی پیش قدمی کے باعث تشویش پائی جاتی ہے جس کی جانب ہو شی جن نے اپنے مضمون میں اشارہ بھی کیا ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ انٹرنیٹ پر سرگرم بہت سے چینی باشندے افغانستان کو نہیں سمجھتے۔ ان کے ذہن میں طالبان کی وہی تصویر برقرار ہے جو بامیان میں بدھ کے مجسموں کے انہدام اور ان کے زیرِ اثر علاقوں میں 'ای ٹی آئی ایم' کے فعال ہونے کے باعث قائم ہوئی تھی۔

ہوشی جن کے مطابق خدشات قابلِ فہم ہیں لیکن "جہاں تک میں جانتا ہوں طالبان اور ای ٹی آئی ایم کے درمیان تعلق کو اس طرح بیان نہیں کیا جاسکتا کہ طالبان سنکیانگ میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے اس تنظیم کو مدد فراہم کرتے ہیں۔"

ہوشی جن کے نزدیک طالبان مذہبی امور میں انتہاپسند ہیں اور کئی دہشت گرد گروہوں سے ان کی قدریں مشترک ہیں۔ لیکن یہ مشترک قدریں انہیں کس نوعیت کے اقدامات کی جانب لے جاسکتی ہیں، اس امکان کا معروضی جائزہ لینا ہوگا۔

چین کے وزیرِ خارجہ وینگ یئ نے رواں ماہ تاجکستان کے دورے کے موقعے پر ایک بار پھر طالبان پر واضح کیا تھا کہ انہیں دہشت گردوں سے اپنے تمام رابطے ختم کرنا ہوں گے۔

دوسری جانب طالبان نے بھی چین کے ان خدشات پر واضح مؤقف اختیار کیا ہے۔ رواں ماہ چینی اخبار ’ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ‘ کو اپنے ایک انٹرویو میں طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا تھا کہ امریکہ سے ہونے والے دوحہ معاہدے کے مطابق طالبان اس بات کے پابند ہیں کہ وہ افغانستان کی سرزمین کو کسی دوسری ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ای ٹی آئی ایم' سمیت کسی گروہ کو افغانستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

چین اور طالبان کے مفادات

چین کی حکمران کمیونسٹ پارٹی نظریاتی طور پر مذہب کی مخالفت کرتی ہے جب کہ طالبان ایک شدت پسند مذہبی گروہ کی شناخت رکھتے ہیں۔ اس تضاد کے باوجود ماہرین کے خیال میں دونوں کی قربت کے جغرافیائی کے ساتھ ساتھ بعض معاشی اسباب بھی ہیں۔

گزشتہ دہائی میں چین نے تیزی سے افغانستان میں اپنے معاشی مفادات کو وسعت دی ہے۔

ایشیا اور افغانستان کے امور کے ماہر برنیٹ ریوبن کی کتاب ’ایوری تھنگ یو نیڈ ٹو نو اباؤٹ افغانستان‘ کے مطابق 2008 میں دو چینی کمپنیوں نے افغانستان کے صوبے لوگر میں تانبے کی کانوں کے تین ارب ڈالرز کے ٹھیکے حاصل کیے تھے۔ تانبے کی یہ کانیں دنیا میں تانبے کا دوسرا بڑا ذخیرہ تصور کی جاتی ہیں۔ لیکن سیکیورٹی کی صورتِ حال، علاقے میں آثارِ قدیمہ کی موجودگی اور مطلوبہ ترقیاتی کام نہ ہونے کی وجہ سے اس منصوبے پر زیادہ پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

اس کے علاوہ چین پشاور سے کابل تک موٹر وے بنانے کا بھی خواہش مند ہے جو دراصل اس کے 'بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو' کا حصہ ہو گی۔

امریکی تھنک ٹینک 'رینڈ کارپوریشن' سے منسلک سینئر دفاعی تجزیہ کار ڈیرک گروسمین نے حال ہی میں ’فارن پالیسی‘ میگزین میں ایک مضمون لکھا ہے جس کے مطابق کابل حکومت امریکہ سے اپنے تعلقات کی وجہ سے چین کے اس منصوبے سے دور رہی ہے۔

چین واخان راہداری سے بھی ایک تجارتی سڑک گزارنا چاہتا ہے جو اس کے مغربی صوبے سنکیانگ کو افغانستان، پاکستان اور وسطی ایشیا سے ملا دے گی۔ یہ خطے میں چین کے زیرِ تکمیل سڑکوں کے جال کے منصوبے کا ایک حصہ ہے جس کے مکمل ہونے سے خطے میں چین کی تجارت اور افغانستان کے قدرتی وسائی تک اس کی رسائی بڑھ جائے گی۔

سن 2014 کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان کے پہاڑوں میں لگ بھگ 10 کھرب ڈالر مالیت کی قیمتی دھاتیں موجود ہیں۔

کابل سے تعلق رکھنے والے ماہرِ سیاسیات عطا نوری کے مطابق افغان حکومت ان مقامات پر سیکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام رہی تھی جہاں چین سرمایہ کاری کرنا چاہتا تھا۔

چین کا بحیرۂ روم میں بڑھتا ہوا اثر و رسوخ
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:06 0:00

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ چین کے خیال میں اس میں کوئی مضائقہ نہیں اگر وہ طالبان پر سرمایہ کاری کرتا ہے اور انہیں ایک موقع دیتا ہے۔

دوسری جانب طالبان کو بھاری سرمایہ کاری درکار ہے جو اسے ممکنہ طور پر چین سے حاصل ہوسکتی ہے۔

رواں ماہ ’ساؤتھ چائنا مورننگ پوسٹ‘ کو انٹرویو میں طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا تھا کہ چین کی افغانستان میں سرمایہ کاری کا خیر مقدم کیا جائے گا اور چینیوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ طالبان کے اچھے تعلقات ہیں۔ چین ایک دوست ملک ہے اور افغانستان کی تعمیرِ نو کے لیے ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

حال ہی میں ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کو دیے گئے ایک اور انٹرویو میں سہیل شاہین نے کہا تھا کہ ہمیں مسلمانوں پر ہونے والے جبر کا خیال ہے چاہے ایسا فلسطین میں ہو، میانمار میں یا چین میں۔ ہم دنیا میں کہیں بھی غیر مسلموں پر ہونے والے جبر پر بھی فکر مند ہیں۔ لیکن ہم چین کے داخلی امور میں کبھی مداخلت نہیں کریں گے۔

دفاعی تجزیہ کار ڈیرک گروس مین کے نزدیک ان الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ طالبان چین کو راضی رکھنا چاہتے ہیں اور افغانستان میں دوبارہ اقتدار کے قریب ہوتے گروہ کی حیثیت سے یہ درست سمت میں طالبان کا پہلا قدم ہے۔

امریکہ ، چین اور طالبان

طالبان کے چین سے بڑھتے ہوئے روابط پر خطے کے دیگر ممالک اور بالخصوص امریکہ کا ممکنہ رد عمل کیا ہوسکتا ہے اس بارے میں رینڈ کارپوریشن سے منسلک تجزیہ کار گریک گروس مین نے اپنے مضمون میں اشارہ دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ تاحال یہ واضح نہیں کہ امریکہ طالبان کو افغانستان کا باضابطہ نمائندہ تسلیم کرے گا یا نہیں۔ البتہ دیگر امور پر عدم اتفاق کے باوجود روایتی طور پر افغانستان ایک ایسا موضوع ہے جس پر چین اور امریکہ متنق نظر آتے ہیں۔ مثلاً دونوں ہی افغانستان میں قومی مفاہمت کے خواہاں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ چین اگر افغانستان میں طالبان کی قیادت کوتسلیم کرلیتا ہے اور واشنگٹن ایسا نہیں کرتا تو ایسی صورت میں امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات میں پائے جانے والے مسائل میں اضافہ ہوجائے گا۔

گلوبل اسٹڈیز کے نائب صدر اور نیو امریکہ کے رسرچ فیلو، پیٹر برگن نے کہا ہے کہ جون کی اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بھی یہ بات بتائی گئی تھی کہ القاعدہ اور طالبان کے قریبی تعلقات ابھی تک جاری ہیں۔

وائس آف امریکہ کے ساتھ انٹرویو میں انھوں نے یاد دلایا کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی پیشگی شرط ہی یہی تھی کہ طالبان القاعدہ کے ساتھ اپنے رابطے ختم کردیں گے، ''لیکن، طالبان نے ایسا نہیں کیا''۔

پیٹر برگن کے بقول، یوں لگتا ہے کہ شاید چین اس بات پر حیران ہے کہ امریکہ مکمل طور پر افغانستان سے جانے لگا ہے۔ بقول ان کے، میرے خیال میں خود افغان حکومت کے لیے بھی یہ بات حیران کن ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک غلطی ہے۔

ایک سوال پر آیا امن عمل ختم ہو چکا ہے، انھوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ طالبان امن میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ہمیں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ یوں لگتا ہے کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ اس مقام پر واپس چلے جائیں جہاں وہ 1996ء کے عشرے کے دوران تھے۔

ادھر، علی گڑھ یونیورسٹی کے پروفیسر سواستی راسو نے کہا ہے کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکہ اور بھارت کسی روڈ میپ پر اتفاق کریں۔

انھوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ حالیہ دورہ بھارت کے دوران امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے اعلیٰ بھارتی حکام سے بات چیت کی، جن میں اجیت ڈوبل بھی شامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر افغان حکومت بھارت سے اسلحے کا مطالبہ کرتی ہے تو بھارت انکار نہیں کرے گا اور ہر طرح سے افغان حکومت کا ساتھ دے گا۔

پروفیسر سواستی کے الفاظ میں، افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد چین کی کوشش ہوگی کہ وہ پیدا ہونے والی خلا پُر کرنے کی کوشش کرے، لیکن بھارت کبھی نہیں چاہے گا کہ افغان معاملات میں چین کو کسی طرح کی برتری حاصل ہو۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG