رسائی کے لنکس

logo-print

رپورٹرز ڈائری: 'سب تسلیاں دیتے ہیں، سننے والا کوئی نہیں'


quarantine camp

ایک ہفتہ قبل مجھے خیال آیا کہ میں ایران سے جنوبی پنجاب آنے والے ایک ایسے شخص پر اسٹوری کروں جو تفتان کے قرنطینہ مرکز میں رہنے کے بعد جب جنوبی پنجاب پہنچا تو اس کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا اور اسے دوبارہ قرنطینہ میں منتقل ہونا پڑا۔

چوں کہ وہ شخص ایران سے آنے والے زائرین میں شامل تھا، اس لیے پنجاب پہنچنے پر اسے قرنطینہ میں داخل ہونا پڑا اور یہیں اس کا کرونا ٹیسٹ بھی ہوا۔

لیکن ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود میں یہ اسٹوری فائل نہیں کر سکا۔ کیوں؟ اس کی وجہ بھی جان لیں۔

میں جس شخص پر اسٹوری کرنا چاہتا تھا ان کا نام شاہ تھا۔ میں دانستاً ان کا پورا نام نہیں بتا رہا۔ میں نے قرنطنیہ مرکز میں فون کے ذریعے شاہ صاحب سے سات روز قبل بات کرنا چاہی تھی۔ لیکن کسی نے فون اٹینڈ نہیں کیا۔

کچھ گھنٹے بعد ان کا میسج آیا کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ اس پر میں خاموشی ہی اختیار کرسکتا تھا، سو وہی کیا۔

کئی دن بعد شاہ صاحب کا دوبارہ میسج آیا جس میں انہوں نے مجھ سے یہ سوال پوچھا کہ مہربانی کر کے مجھے یہی بتا دیں کہ ہمارے بارے میں انتظامیہ کیا سوچ رہی ہے؟ ہمیں مزید کتنے دن اور قرنطینہ میں رہنا ہو گا؟

ان کے استفسار پر میں نے پتا کیا تو معلوم ہوا کہ ان کا قرنطینہ میں داخل ہونے کے 14 دن بعد دوبارہ کرونا وائرس کا ٹیسٹ ہو گا جس کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی انہیں گھر بھیجنے یا مزید روکنے کا فیصلہ ہو سکے گا۔

میں نے یہ بتانے کے لیے شاہ صاحب کو فون کیا لیکن فون دوبارہ بند تھا۔ میں نے واٹس ایپ پر میسج کیا لیکن اس کا بھی کوئی جواب نہیں آیا۔ آج صبح اٹھتے ہی انہیں کال کی تو وہ کافی بہتر محسوس ہوئے۔ ان کا مزاج بھی اچھا لگ رہا تھا۔ میں نے ان سے پچھلی بار کیے گئے سوال کا جواب مانگا تو وہ اپنی کہانی بتانے لگے۔

شاہ صاحب نے کہا کہ اب کوئی مجھ سے اپنے گھر جانے کے بارے میں سچ بھی کہے تو بھی مجھے یقین نہیں آتا۔ ہم 14 مارچ کو تفتان سے بغیر کسی وقفے کے 40 گھنٹے کا سفر کر کے ڈیرہ غازی خان پہنچے تو ایئر پورٹ کے قریب واقع یونیورسٹی میں ٹھہرا دیا گیا۔

ایک دو روز بعد سب کے ٹیسٹ ہوئے اور پھر کچھ لوگوں کو کسی دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا اور کہا گیا کہ یہ اس سے بہتر جگہ ہے۔ بعد میں علم ہوا کہ یہاں 89 افراد موجود ہیں جن میں سے زیادہ تر کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔

شاہ صاحب کے بقول یہاں کبھی وزیرِ اعظم آئے، کبھی وزیرِ اعلیٰ، کبھی مختلف ارکانِ اسمبلی اور کبھی انتظامی افسران، سب نے ہی تسلی دی۔ لیکن ہم جس مشکل میں ہیں اسے سننے والا کوئی نہیں آیا۔

میں نے شاہ صاحب سے اجازت چاہی کہ میں آپ کی کچھ باتیں اپنی رپورٹ میں شامل کرنا چاہتا ہوں۔ وہ بولے، لکھ دیں لیکن میرا نام ظاہر نہ کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ میری مشکلات میں مزید اضافہ ہو جائے۔

میں نے شاہ صاحب سے وعدہ کیا کہ ایسا ہی ہو گا۔ میں نے ان سے ان کے بچوں کے متعلق پوچھا تو کہنے لگے میری چار چھوٹی بیٹیاں ہیں۔ ہر روز یا ہر دوسرے دن ان سے بات ہوتی ہے۔ میں ان سے یہی کہتا ہوں کہ بس خراب ہو گئی ہے، آج بس نہیں ملی یا آج دیر ہو گئی۔ میں ان سے مسلسل جھوٹ بول رہا ہوں اور جھوٹے دلاسے دے رہا ہوں۔ لیکن میں کروں تو کیا کروں؟

انہوں نے بتایا کہ قرنطینہ میں رہنا ایک بڑا مسئلہ اور مشکل ترین کاموں میں سے ایک ہے۔

شاہ صاحب کے بقول جن افراد کے کرونا ٹیسٹ مثبت آئے تھے، پہلے تو انہیں الگ تھلگ رکھا گیا تھا۔ لیکن ان میں سے کچھ لوگوں کے رشتے داروں نے کرونا سے متاثرہ اپنے پیاروں کو اکیلا چھوڑنا پسند نہیں کیا اور انہی کے ساتھ رہنے لگے۔

اس پر انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا کہ جن افراد کے کرونا ٹیسٹ منفی آئے ہیں، وہ چاہیں تو اپنے گھر واپس جاسکتے ہیں۔ اعلان کے بعد بہت سے لوگ وہاں سے چلے گئے۔ مگر ہم سوچ رہے ہیں کہ انتظامیہ کی یہ کیسی پالیسی ہے کہ اگر ہمارے ٹیسٹ مثبت ہیں اور کوئی ہمارے ساتھ متعدد دن رہا ہے تو اسے ہمارے ساتھ رہنے سے پہلے والی منفی رپورٹ کی بنیاد پر گھر جانے کی اجازت کیسے دے دی گئی؟

میری گزشتہ ایک ماہ کے دوران شاہ صاحب سے جب بھی بات ہوئی وہ کبھی پریشان، کبھی رنجیدہ اور کبھی مطمئن نظر آئے۔ کرونا کے مثبت کیسز والے بلاک میں طبی سہولتیں اور خوراک سے متعلق شاہ صاحب ملا جلا تاثر دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پچھلے 12 روز سے کوئی ڈاکٹر اس بلاک میں نہیں آیا لیکن کھانا تین وقت مل رہا ہے۔

شاہ صاحب کے بقول قرنطینہ مرکز میں صرف ایک لڑکا ہے جو ہمارا خیال رکھ رہا ہے۔ خوراک کی تقسیم اور بلاک کی صفائی اسی کے ذمے ہے۔ شروع شروع میں اس لڑکے نے اپنی حفاظت کا کافی خیال رکھا۔ ماسک اور گلوز استعمال کیے۔ لیکن اب ایسا کچھ نہیں۔ اب وہ بھی سب میں گھل مل گیا ہے اور کہتا ہے کہ خیر ہے۔ اگر آپ لوگوں کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں تو میں اپنا ٹیسٹ مثبت آنے پر بھی آپ کی خدمت کرتا رہوں گا۔

XS
SM
MD
LG