رسائی کے لنکس

logo-print

ری پبلکن کنونشن، ٹرمپ جمعرات کو صدارتی نامزدگی قبول کریں گے


فائل فوٹو

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس سال تین نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے ری پبلکن پارٹی کا اُمیدوار نامزد کرنے کے لیے چار روزہ ری پبلکن نیشنل کنونشن کا آغاز ہو گیا ہے۔

ری پبلکن پارٹی کے مندوبین امریکی ریاست شمالی کیرولائنا کے شہر شارلٹ میں جمع ہو رہے ہیں جہاں مختلف پارٹی رہنما اظہار خیال کریں گے۔

کرونا وبا کی وجہ سے ری پبلکن پارٹی کے کنونشن کا بڑا حصہ ورچوئل یعنی آن لائن ہو گا۔

شارلٹ آنے والے ری پبلکن رہنماؤں نے سخت احتیاطی تدابیر اختیار کر رکھی ہیں۔ یہاں آنے سے قبل تمام مندوبین کے کرونا ٹیسٹ بھی کیے گئے۔

کنونشن کے مقام پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

شارلٹ میں ری پبلکن پارٹی کے 336 مندوبین جمع ہو رہے ہیں۔ چار روزہ کنونشن کے دوران خاتون اول میلانیا ٹرمپ سمیت کئی پارٹی رہنما خطاب کریں گے۔

پیر کو شمالی کیرولائنا سے سینیٹر ٹم اسکاٹ، اقوامِ متحدہ میں امریکہ کی سابق سفیر نکی ہیلی اور صدر ٹرمپ کے بڑے صاحبزادے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر خطاب کریں گے۔

واضح رہے کہ امریکہ کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں ہر صدارتی انتخاب سے قبل اپنے اپنے امیدواروں کا باضابطہ اعلان کنونشنز میں کرتی ہیں۔ کئی روز تک جاری رہنے والے ان کنونشنز میں ملک بھر سے پارٹی رہنما اور ہزاروں کارکن شریک ہوتے ہیں۔

منگل سے لے کر جمعرات تک ری پبلکن کنونشن کی زیادہ تر سرگرمیاں واشنگٹن ڈی سی میں ہوں گی۔

شارلٹ میں ری پبلکن پارٹی نے کنونشن کے انتظامات کیے ہیں۔
شارلٹ میں ری پبلکن پارٹی نے کنونشن کے انتظامات کیے ہیں۔

صدر ٹرمپ کنونشن کے چاروں روز خطاب کریں گے تاہم وہ کنونشن کے آخری روز جمعرات کو وائٹ ہاؤس کے ساؤتھ لان میں باضابطہ طور پر صدارتی نامزدگی قبول کرنے کے بعد اختتامی خطاب کریں گے جسے براہِ راست نشر کیا جائے گا۔

وائٹ ہاؤس اور ری پبلکن پارٹی کے رہنماؤں کے مطابق چار روزہ کنونشن کے دوران مقررین صدر ٹرمپ کے چار روزہ دورِ صدارت کے دوران حاصل کی گئیں اہم کامیابیوں پر روشنی ڈالیں گے۔

صدر ٹرمپ کی صدارتی مہم کا کہنا ہے کہ کنونشن کے دوران ری پبلکن پارٹی کے اہم رہنماؤں سمیت ایسے عام امریکی شہری بھی خطاب کریں گے جنہیں صدر ٹرمپ نے اپنے دورِ صدارت کے دوران ایک نئی اُمید دی۔

تین نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں جو بائیڈن کا مقابلہ صدر ٹرمپ سے ہو گا۔
تین نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں جو بائیڈن کا مقابلہ صدر ٹرمپ سے ہو گا۔

ڈیمو کریٹک پارٹی کے کنونشن سے سابق صدور براک اوباما، بل کلنٹن اور جمی کارٹر نے خطاب کیا تھا۔ تاہم ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش اور 2012 میں ری پبلکن اُمیدوار مٹ رومنی کا نام مقررین کی فہرست میں نہیں ہے۔

اس سے قبل جمعرات کو ڈیمو کریٹک پارٹی کا کنونشن اختتام پذیر ہوا تھا جس میں جو بائیڈن نے باضابطہ طور پر صدارتی نامزدگی قبول کی تھی۔

اپنے خطاب میں جو بائیڈن نے صدر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ وہ امریکی قوم کے ساتھ مل کر مبینہ سیاہ دور کا خاتمہ کریں گے۔

البتہ صدر ٹرمپ نے ڈیمو کریٹک کنونشن کو تاریخ کا سب سے تاریک کنونشن قرار دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ ڈیمو کریٹس نے اپنے کنونشن میں امریکہ کو نسل پرست ملک قرار دیتے ہوئے اس پر ایک طرح سے حملہ کیا ہے۔

ری پبلکن کنونشن میں نائب صدر مائیک پینس کی دوبارہ نامزدگی بھی ہو رہی ہے ۔ ڈیمو کریٹک پارٹی نے کملاہیرس کو نائب صدر کے طور پر نامزد کیا ہے۔ وہ اس عہدہ کے لیے نامزد ہونے والی پہلی سیاہ فام خاتون ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG