رسائی کے لنکس

logo-print

تھکاوٹ سے لوگوں میں جھوٹ بولنے کا امکان بڑھتا ہے: تحقیق


ماہرین کہتے ہیں کہ تھکاوٹ یا دن بھر کام کی وجہ سے بدن میں توانائی کی سطح کم ہونے کے باعث غیر اخلاقی یا برے برتاؤ کے خلاف مزاحمت کرنا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔

ایک نئی تحقیق کے مطابق تھکے ماندہ افراد چاق و چوبند لوگوں کے مقابلے میں زیادہ جھوٹ بولتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تھکاوٹ کے بہت سے اسباب ہو سکتے ہیں لیکن اس میں سب سے اہم کردار نیند کا ہوتا ہے۔

تھکاوٹ سے انسانی مزاج میں بہت جلد تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ بظاہر انسان خود کو چڑچڑے پن اور برے برتاؤ سے دور رکھنے کی کوشش کرتا ہے لیکن تحقیق کے مطابق ایسا کرنا اس کے اختیار میں نہیں ہوتا۔

امریکی ماہرین نے ایک نئی تحقیق میں توانائی کے پیٹرن اور اخلاقیات کے درمیان پائے جانے والے گہرے رشتے کی نشاندھی کی ہے۔

' ہارورڈ بزنس ریویو' میں شائع ہونے والی جائزہ رپورٹ کا نتیجہ اس مفروضے کی نفی کرتا ہے کہ اچھے افراد صرف اچھی چیزیں کرتے ہیں جبکہ برے لوگوں کی ہر بات کو برا تصور کیا جاتا ہے۔

لیکن موجودہ جائزے میں بتایا گیا ہے کہ اچھے لوگ بھی برا برتاؤ کر سکتے ہیں اور یہ اس لمحے ان پر پڑنے والے دباؤ پرمنحصر ہوتا ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی سے وابستہ تحقیق کاروں کی ٹیم نے پتا لگایا ہے کہ صبح سویرے بیدار ہونے والے لوگوں میں تھکاوٹ کے نتیجے میں شام کے وقت میں جھوٹ بولنے یا دھوکے بازی کرنے کا امکان پایا جاتا ہے۔

بالکل اسی طرح الو کی مانند رات بھر جاگنے والے لوگوں میں صبح کے وقت برا برتاؤ کرنے کا امکان پایا جاتا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ آٹھ گھنٹے کی پرسکون نیند سے لطف اندوز ہونے کا خیال اس لحاظ سے بہت بہتر معلوم ہوتا ہے کیونکہ ایک تھکے ماندے شخص کا توانائی کی سطح کم ہونے کی وجہ سے غیر اخلاقی یا برا برتاؤ کے خلاف مزاحمت کرنا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔

تجزیہ کاروں نے نئی تحقیق میں جسمانی حیاتیاتی گھڑی 'سرکیڈین ردھم' پر توجہ مرکوز رکھی ہے جو انسان کی قدرتی نیند کو کنٹرول کرتی ہے اور دیر تک جاگنے کےعمل کے ساتھ منسلک ہے۔

تجزیہ کاروں نے کہا کہ کچھ لوگ قدرتی طور پر صبح سویرے اٹھنے کے عادی ہوتے ہیں جبکہ ان کے برعکس بعض افراد میں رات دیر تک جاگنے کی عادت پائی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے امکان ظاہر کیا ہے کہ نیند لینے کے مختلف طریقے دن بھر کے اخلاقی اور غیر اخلاقی رویوں کی صورت میں ظاہر ہو سکتے ہیں۔

تجربے کے پہلے حصے میں تجزیہ کاروں نے شرکاء کے صبح کے وقت کے رویہ کا تجزیہ کیا جس میں شرکاء سے ایک سادہ میٹریکس مسئلہ حل کرنے کے لیے کہا گیا۔ شرکاء نےمکمل کئے جانے والے ٹاسک کی گنتی کرنے کے بعد ممتحن کو آگاہ کیا جس پر ان کے جوابات کے مطابق ہر اضافی مسئلہ حل کرنے پر انھیں اضافی رقم ادا کی گئی۔

اس تجربے کے دوران شرکاء اس بات سے بے خبر تھے کہ ان کے کام کی شناخت ان کے نام کے ساتھ کی جا سکتی ہے تاہم وہ خود کو گمنام خیال کر کے ٹاسک مکمل کرنے پر انعام حاصل کرتے رہے۔

تجزیہ کاروں نے دیکھا کہ اس تجربے میں سب سے زیادہ غلط بیانی یا دھوکہ دہی کے مرتکب ہونے والے افراد میں ایسے لوگ شامل تھے جنھیں رات بھر جاگنے کی عادت تھی۔

دوسرے مطالعے کے دوران شرکاء سے دن بھر میں دو مختلف ٹاسک مکمل کرنے کے لیے کہا گیا۔ یہ مسائل صبح سویرے کے اوقات اور رات گیارہ بجے کے بعد حل کرنے کے لیے کہا گیا۔

اس تجربے کے نتیجے سے محققین یہ معلوم کرنے میں کامیاب ہوئے کہ رات کے سیشن میں صبح جلدی بیدار ہونے والوں نے زیادہ جعلسازی سے کام لیا۔ بالکل اسی طرح صبح کے سیشن میں رات بھر جاگنے والوں نے زیادہ دھوکہ بازی دکھائی ۔

نتائج سے واضح ہوا کہ صبح سویرے بیدار ہونے والوں میں رات میں تھکان کے باعث زیادہ برا برتاؤ کرنے کا امکان ہو سکتا ہے اور رات بھر تارے گننے والوں میں صبح سویرے جھوٹ زیادہ بولنے کا امکان ہوسکتا ہے کیونکہ دونوں اقسام کے لوگوں میں دن کے ایسے اوقات میں توانائی کی سطح بہت کم ہوتی ہے اور تھکے ماندےہونے کی وجہ سے برے رویہ پر قابو پانے کی صلاحیت بہت کم ہو جاتی ہے۔

XS
SM
MD
LG