رسائی کے لنکس

دہشت گردی سے کابل کانفرنس کا انعقاد متاثر ہونے کا خدشہ


کابل مظاہرے میں شریک ایک شخص نعرے لگا رہا ہے

افغانستان کے دارالحکومت میں محض تین روز کے دوران ہونے والے بم دھماکوں اور ان میں ایک سو افراد کی ہلاکت کے بعد چھ جون کو امن و سلامتی اور مصالحت سے متعلق کابل میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس کے بارے میں شک و شبہات نے جنم لیا ہے۔

اس کانفرنس میں پاکستان، امریکہ، روس، چین، بھارت اور ایران سمیت 25 ممالک نے شرکت کا اعلان کر رکھا ہے۔

بدھ کو کابل میں غیر ملکی سفارتخانوں پر مشتمل ایک حساس علاقے میں طاقتور ٹرک بم دھماکے میں نوے افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔ اس واقعے پر احتجاج کرنے والے سیکڑوں افراد صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ لے کر سڑکوں پر نکل آئے تھے جہاں پولیس کے ساتھ ان کی جھڑپ میں چار افراد مارے گئے۔

ہفتہ کو مرنے والوں کے جنازے کے دوران تین مختلف بم دھماکے ہوئے جس سے دس لوگ جان کی بازی ہار گئے۔

طالبان نے حالیہ ہفتوں میں اپنی مہلک باغیانہ کارروائیوں کو مہمیز کیا ہے جب کہ گزشتہ ایک سال سے خاص طور پر ملک کے مشرقی حصے میں شدت پسند تنظیم داعش بھی متحرک چلی آ رہی ہے۔

لیکن قابل ذکر امر یہ ہے کہ جہاں طالبان نے کابل میں ہونے والے حالیہ بم دھماکوں میں کسی بھی طرح ملوث ہونے سے انکار کیا تو وہیں داعش کی طرف سے تاحال اس پر مکمل خاموشی ہے۔

دفاعی امور کے سینیئر تجزیہ کار اور پاکستانی فوج کے سابق بریگیڈیئر سید نذیر کہتے ہیں کہ افغانستان میں بظاہر ایسے مختلف عناصر موجود ہیں جو صورتحال کو مزید خراب کر رہے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ یہ ہے کہ مختلف حلقے یکجہتی کی بجائے اپنے اپنے مفادات کے لیے کام کر رہے ہیں۔

افغانستان اپنے ہاں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اسلام آباد اپنی سرزمین کابل کے خلاف استعمال کرنے والوں کی بیخ کنی کے لیے موثر اقدام نہیں کر رہا۔

تاہم پاکستان ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ پرامن افغانستان خود پاکستان کے مفاد میں ہے اور وہ افغان امن عمل کی حمایت کے اپنے عزم پر قائم ہے۔

ہفتہ کو ہی وائس آف امریکہ سے گفتگو میں پاکستانی مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا تھا کہ کابل میں ہونے والی حالیہ دہشت گرد کارروائی دونوں ملکوں کے تعلقات کو خراب کرنے کی سازش ہو سکتی ہے جس میں وہ عناصر ملوث ہیں جو پاکستان اور افغانستان میں امن نہیں چاہتے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG