رسائی کے لنکس

logo-print

خیبر پختونخواہ: ایڈز اور پولیو کیسز میں تشویشناک اضافہ


ایڈز کے مریضوں میں پچھلے سال کے مقابلے میں چالیس فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا جبکہ گذشتہ چھ ماہ کے دوران پولیو کے 12 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔

پاکستان کا بالائی صوبہ خیبر پختونخواہ بیک وقت دو بیماریوں میں گِھرا ہوا ہے۔ ایک جانب ایڈز کے مریضوں میں پچھلے سال کے مقابلے میں چالیس فیصد اضافہ ہو گیا ہے تو دوسری جانب چھ ماہ کے دوران پولیو کے 12نئے کیسز سامنے آگئے ہیں۔

محکمہ ِصحت خیبر پختونخواہ نے رواں ہفتے ایچ آئی وی پوزیٹو اور ایڈز کے حامل مریضوں سے متعلق چھ ماہی رپورٹ جاری کی ہے جس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ صوبے اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں ایڈز اور ایچ آئی وی کے مریضوں کی تعداد میں چالیس فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مریضوں میں سے اکثر کا تعلق صوبے کے جنوبی اضلاع سے ہے۔ ان میں سے زیادہ تر افراد بیرون ِملک کام کرتے رہے ہیں۔

محکمہ ِصحت کا کہنا ہے کہ رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں 11 سو سے زیادہ افراد ایچ آئی وی پازیٹیو قرار دئیے گئے جن میں سے 145 افراد میں ایڈز کی علامات ظاہر ہو ئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پشاور میں177 افراد،جنوبی وزیرستان میں 91، بنوں 93، ہنگو 42،سوات میں 59، اورکزئی ایجنسی میں 19، بونیر 22، ملاکنڈ 13، ایبٹ آباد 3، لکی مروت 30، شانگلہ 4 اور چترال میں 6 افراد میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی ہے۔

طِبّی ماہرین کے مطابق خیبر پختونخوا میں ایڈز کی شرح میں اضافے کی بڑی وجہ بیرونِ ملک کام کرنے والے وہ افراد ہیں جو ایڈز کے جراثیم اپنے ساتھ لاتے ہیں۔

پولیو سے تباہی
ایڈز کے بعد پولیو بھی قبائلی علاقوں میں تباہی پھیلارہا ہے۔ رواں سال کے دوران قبائلی علاقوں میں پو لیو کے 12 نئے کیسز رپورٹ کیے گئے ہیں۔ ان میں سے 8 کیسز خیبر ایجنسی، 2 ایف آر بنوں جبکہ 2 کیسز شمالی وزیرستان میں رپورٹ کیے گئے۔

پولیو پھیلنے کی اہم وجوہات میں عوامی سطح پر پھیلے غلط تاثرات ہیں جن کے سبب کہیں پولیو ورکرز پر جان لیوا حملے کئے جاتے ہیں تو کہیں سیکورٹی خدشات کے پیش ِنظر پولیو مہم چلانا مشکل کر دیا جاتا ہے۔ آج بھی متعدد علاقے ایسے ہیں جہاں پولیو ورکرز کی رسائی ناممکن بنی ہوئی ہے۔
XS
SM
MD
LG