رسائی کے لنکس

logo-print

برطانیہ میں ایٹنگ ڈس آرڈرز سے متاثرہ نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ


گزشتہ بارہ مہینوں کے دوران اسپتالوں میں بھرتی کرائے جانے والے ایٹنگ ڈس آرڈر سے متاثرہ نوجوان مریضوں کی تعداد میں 8 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔

ایک حالیہ سرکاری رپورٹ کے اعداد وشمار سے پتا چلتا ہے کہ برطانوی اسپتالوں میں بھرتی ہونے والے ایسے نوجوان مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جنھیں 'ایٹنگ ڈس آرڈرز' یعنی غذائی بے ظابطگی کی بیماریاں لاحق ہیں۔

خوراک کے لیے غیر معمولی رویہ رکھنے کی وجہ سے کھانے پینے اور رویے میں تبدیلی پیدا ہونا طب کی زبان میں 'ایٹنگ ڈس آرڈرز' کہلاتا ہے۔ ایٹنگ ڈس آرڈرز کی عام بیماریاں مردوں کے مقابلے میں عورتوں میں زیادہ عام ہیں ۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نوجوانوں میں ایٹنگ ڈس آرڈرز کے عوارض ( وہ بیماریاں جن میں مریض بہت ہی کم یا زیادہ کھاتے ہیں) مثلاً ’اینو ریکسیا‘ اور ’بولیمیا‘ عام ہونے کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا کی مقبولیت ہے جس نے نوجوانوں کو خوب سے خوب تر دکھائی دینے کےجنون میں مبتلا کر رکھا ہے۔

حکومت کے صحت اور سماجی نگہداشت کے مرکز اطلاعات کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ بارہ مہینوں کے دوران اسپتالوں میں بھرتی کرائے جانے والے ایٹنگ ڈس آرڈرز سے متاثرہ نوجوان مریضوں کی تعداد میں 8 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسپتالوں میں بھرتی ہونے والے مریضوں میں لڑکیوں اور خواتین کی تعداد لڑکوں اور مردوں کے مقابلے میں نو گنا زیادہ ہے جبکہ اسپتال میں داخل ہونے والی خواتین میں سب سے زیادہ تعداد 15 برس کی لڑکیوں کی تھی۔

مریضوں میں 13 برس کے لڑکوں کی تعداد زیادہ تھی علاوہ ازیں 5 سال سے کم عمر بچے بھی ایٹنگ ڈس آرڈرز کی بیماریوں میں مبتلا تھے۔ ان بیماریوں میں مبتلا ہونے والوں میں سب سے بڑی تعداد 10 سال سے 19سال کی عمر والے نوجوانوں کی تھی جنھیں مرض کی شدت کے باعث اسپتال لایا گیا تھا عام طور پر مریض کو اس بیماری کے علاج کے لیے اسپتال میں لمبے عرصے تک قیام کرنا پڑتا ہے۔

برطانوی خیراتی ادارہ ’بیٹ‘ کی ربیکا فیلڈ نے روزنامہ گارڈین کو بتایا کہ سرکاری اعداد وشمار سے صحیح صورتحال کا اندازا نہیں لگایا جا سکتا ہے کیونکہ زیادہ تر لوگ اس طرح کے طبی مسائل کے علاج کے لیے اپنے ڈاکٹر یا پرائیوٹ کلینک میں جاتے ہیں ان کے علاوہ بہت سے ایسے مریض بھی ہیں جن کا کبھی علاج نہیں ہوا۔

انھوں نے کہا کہ ادارے کے ایک محتاط اندازے کے مطابق برطانیہ میں 16 لاکھ لوگ ایسے ذہنی امراض میں مبتلا ہیں جن میں سے ہر 5 میں سے ایک مریض وقت سے پہلے دنیا سے چلا جاتا ہے ان میں سے کچھ کی موت شدید بیماری کی وجہ سے ہوتی ہے یا ایسے کیسوں میں کئی بار مریض نے خود کشی بھی کر لی ہے۔

انھوں نے رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امید کی جاسکتی ہے کہ اسپتالوں میں مریضوں کی بھرتی میں اضافے کا سبب ایٹنگ ڈس آڈرز کی بیماریوں سے آگاہی ہے جس کے علاج کے لیے لوگ اسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں یا پھر ایسا بھی ممکن ہے کہ ٹوٹے ہوئے رشتوں کا دکھ، سماجی دباؤ اور بے روزگاری جیسے مسائل کی وجہ سے اس تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

فیلڈ کا کہنا تھا کہ ایٹنگ ڈس آرڈر شدید نفسیاتی بیماریوں کی وجہ سے بھی لاحق ہو سکتا ہے جس کا شکار تمام عمر کے لوگ ہو سکتے ہیں کئی بار شدید اندرونی دکھ کے اظہار کے طریقے کے طور پر بھی اسے اپنایا جاتا ہے اور بعض دفعہ والدین کے لیے بچوں کی طرف سے یہ ایک طرح کا ردعمل کا اظہار ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں دور حاضر میں نوجوانوں کی چند ایسی ویب سائٹس بھی اس کی وجہ بن رہی ہیں جہاں نوجوانوں کو دبلا پتلا نظر آنے کے لیے سخت ڈائٹنگ کا مشورہ دیا جاتا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ فیس بک اور دیگر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور میڈیا نے مل کرسلیبرٹی کلچر کو ہوا دی ہے جہاں پرفیکٹ خدوخال رکھنے والے اداکار اور اداکاراؤں کی تصاویر کی بھر مار ہے جس سے نئی نسل متاثر ہو رہی ہے۔ دوسری جانب فیس بک کے پلیٹ فارم سے نوجوان اپنی تصاویر پوسٹ کرتے ہیں جنھیں دوست احباب پسند کرتے ہیں۔ اسی شوق میں خصوصاً لڑکیاں کھانا پینا چھوڑ کر کسی ماڈل کی طرح دکھائی دینے کے خبط میں مبتلا ہو رہی ہیں۔

سرکاری رپورٹ کے مطابق اسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں میں ہر 4 میں سے 3 اینوریکسیا کے عارضے میں مبتلا تھے۔

اینوریکسیا Anorexia Nervosa ( وزن کو کم سے کم رکھنے کے لیے بھوکا رہنا اورسخت قسم کی ورزش کرنا جس کی وجہ سے وزن تیزی سے گرتا ہے ) ۔

ان کے علاوہ ہر 20 میں سے ایک مریض بولیمیا کی بیماری میں مبتلا تھا ۔

بولیمیا Bulimia Nervosa ( وزن کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ کھانا کھایا جاتا ہے جس کے نتیجے میں جان بوجھ کر لوگ بیمار ہو جاتے ہیں)

بیٹ کے ماہرین کا کہنا تھا کہ والدین کے لیے ایسے بچوں سے نمٹنا آسان نہیں ہے جو کھانا کھانے سے انکار کر دیتے ہیں یا پھر اسے چھپا دیتے ہیں یا پھر کہیں پھینک آتے ہیں ایسے بچوں میں صحت مندانہ رویہ فروغ دینے کی ضرورت ہے جس کے لیے والدین کو خود کو متناسب وزن اور بہتر جسمانی صحت کے ساتھ مثال بنا کر بچوں کے سامنے پیش کرنا ہو گا۔
XS
SM
MD
LG