رسائی کے لنکس

logo-print

ایران کی 2015 کے جوہری معاہدے پر بات چیت کی مشروط رضامندی


فائل فوٹو

ایرانی صدر حسن روحانی نے منگل کے روز کہا ہے کہ اگر امریکہ اسلامی جمہوریہ پر لاگو تعزیرات اٹھالے تو ایران 2015ء میں چھ عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے میں چھوٹی تبدیلیاں، اضافہ یا ترامیم سے متعلق گفتگو پر تیار ہے۔

عملی نقطہ نظر رکھنے والے صدر نے نیویارک میں ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ وہ عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے کے اندر ’’چھوٹی تبدیلیاں، اضافہ جات اور ترامیم‘‘ لانے پر رضامند ہے اگر پابندیاں ہٹا لی جاتی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق ’’معاشی دباؤ‘‘ کی پالیسی اپنا رکھی ہے، تاکہ اس کی قیادت معاہدے پر پھر سے گفت و شنید پر مجبور ہو۔ انھوں نے منگل کے روز کہا ہے کہ ان کا ایران پر عائد پابندیاں اٹھانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی سربراہان سے سالانہ خطاب میں کہا کہ ’’تمام ملکوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ضمن میں اقدام کریں۔ کسی بھی ذمہ دار حکومت کو ’خون کے پیاسے‘ ایران کو برداشت نہیں کرنا چاہیے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’جب تک ایران کا دھمکی آمیز رویہ جاری ہے، اس پر لاگو پابندیاں نہیں ہٹائی جائیں گی۔ انہیں مزید سخت کیا جائے گا‘‘۔

گذشتہ برس ٹرمپ نے جوہری معاہدے سے الگ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے اسلامی جمہوری کے خلاف تعزیرات دوبارہ عائد کر دی تھیں، جنھیں سمجھوتے کے بعد اٹھا لیا گیا تھا۔ طویل عرصے سے ایران اور امریکہ متحارب ملک رہے ہیں جن کے مابین کشیدگی میں اب انتہائی اضافہ ہو چکا ہے۔

امریکہ کی ’’شدید دباؤ‘‘ کی پالیسی کے جواب میں ایران معاہدے کے بارے میں اپنا مؤقف کو رفتہ رفتہ بدلتا رہا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اگر یورپی فریقین ایران کی معیشت کو نقصان سے بچانے کے اپنے وعدے کی پاسداری میں ناکام رہتے ہیں تو وہ اس کی مزید خلاف ورزی کر سکتا ہے۔

ایران کے رہبر اعلیٰ، آیت اللہ علی خامہ اِی نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ اگر امریکہ معاہدے کو تسلیم کرتا ہے اور تعزیرات اٹھا لیتا ہے تو ایران کثیر ملکی بات چیت میں شامل ہو سکتا ہے۔

چودہ ستمبر کو سعودی عرب کی تیل کی اہم تنصیبات پر حملے کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان محاذ آرائی میں شدت آ چکی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں، جب کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع میں اضافہ ہو چکا ہے۔

امریکہ، یورپی طاقتیں اور سعودی عرب نے ان حملوں کا ذمے دار ایران کو قرار دیا ہے، جن حملوں کی ذمہ داری یمن میں ایران سے منسلک حوثی گروپ نے قبول کی تھی۔ ایران نے حملے میں ملوث ہونے کے دعوے کو مسترد کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG