رسائی کے لنکس

روس کی نئی افغان پالیسی پر تنقید، امریکہ کے جوابی الزامات


امریکی و روسی وزرائے خارجہ کی ایک فائل فوٹو

لاوروف نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ امریکہ کی نئی افغان پالیسی ایک لاحاصل کوشش ہے جس کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد ہونے کی امید نہیں۔

امریکہ اور روس کے اعلیٰ حکام نے ایک دوسرے پر افغانستان کے حالات خراب کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

جمعرات کو ماسکو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی کا محور یہ ہے کہ طاقت کے استعمال کے ذریعے افغانستان کے حالات میں بہتری لائی جائے۔

لاوروف نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ یہ ایک لاحاصل کوشش ہے جس کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد ہونے کی امید نہیں۔

روسی وزیرِ خارجہ کے اس بیان پر امریکی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ امریکہ کی نئی افغان پالیسی محض ایک عسکری پالیسی نہیں بلکہ اس میں سفارتی اور سیاسی کے ساتھ ساتھ معاشی پہلووں کو بھی مدِ نظر رکھا گیا ہے۔

وائس آف امریکہ کے رابطہ کرنے پر امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ روس افغانستان میں امریکی کردار سے متعلق ایسا پروپیگنڈا کر رہا ہے جس کا کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔

روسی وزیرِ خارجہ کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے امریکی اہلکار کا کہنا تھا کہ روس یہ دعویٰ کرنے کی بھی کوشش کر رہا ہے کہ امریکہ افغانستان میں داعش کی مدد کرتا ہے جو ان کے بقول محض افسانہ طرازی ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس غلط معلومات پھیلا کر خطے میں امریکی ساکھ کو متاثر کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے لیے روس کا یہ رویہ بالکل بھی حیرت کا باعث نہیں کیوں کہ روس خطے میں امریکہ کو اپنا حریف سمجھتا ہے۔

امریکی حکام کہتے رہے ہیں کہ افغانستان میں داعش کی سرگرمیوں سے خوف زدہ ہو کر روس طالبان کی مدد کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہا ہے جس پر امریکہ کو تشویش ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن نے رواں ہفتے ایک بیان میں روس پر الزام لگایا تھا کہ وہ افغان طالبان کو ہتھیار فراہم کرنے میں ملوث ہے جو ان کے بقول بین الاقوامی ضابطوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو میں روسی وزیرِ خارجہ لاوروف نےا پنے امریکی ہم منصب کے اس الزام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں جب روس پر افغان طالبان کی مدد اور انہیں اسلحہ فراہم کرنے کے الزامات لگے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان الزامات کے حق میں آج تک کوئی ایک ثبوت بھی سامنے نہیں لایا گیا جن سے ان الزامات کی حقیقت کا بخوبی اظہار ہوتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG