رسائی کے لنکس

لیبیا کے سابق راہنما معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو چھ سال تک تحویل میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔

وہ ابوبکر الصدیق بٹالین نامی ملیشیا کے قید میں تھے جس نے انھیں طرابلس کے جنوب مغرب میں واقع اپنے زیر قبضہ علاقے زینتان میں رکھا ہوا تھا۔

اس گروپ نے ایک بیان میں بتایا کہ سیف الاسلام کو جمعہ کو دیر گئے رہا کیا گیا۔

44 سالہ سیف الاسلام قذافی کو نومبر 2011ء میں اس وقت زینتان سے گرفتار کیا گیا تھا جب جنگجووں کی طرف سے طرابلس پر قبضہ کیے جانے کے بعد وہ نائیجر فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

قذافی کے آٹھ بچوں میں سے سب سے زیادہ نمایاں سیف الاسلام ہی تھے اور انھیں قذافی کی حکومت کے عہدیداروں کے مقدمات سننے والی طرابلس کی ایک عدالت نے 2015ء میں سزائے موت سنائی تھی۔

وہ انسانیت کے خلاف اور جنگی جرائم کے الزامات میں جرائم کی بین الاقوامی عدالت کو بھی مطلوب ہیں۔

بٹالین نے سیف الاسلام سے متعلق مزید تفصیلات جاری نہیں کی اور نہ ہی ان کے موجودہ حدود اربع کے بارے میں کچھ بتایا ہے۔

اس کے بقول یہ رہائی ملک کے مشرقی حصے میں قائم پارلیمنٹ کے ساتھ معافی نامے کی بنیاد پر عمل میں آئی۔

لیبیا 2011ء میں تقریباً چار دہائیوں تک برسر اقتدار رہنے والے معمر قذافی کے دور کے خاتمے کے بعد سے انتشار کا شکار چلا آ رہا ہے۔ یہ مختلف متحارب گروپ ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار ہیں جس سے مرکزی حکومت کی عملداری نہ ہونے کے برابر ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG