رسائی کے لنکس

logo-print

زحل کے چاند ٹائیٹن میں زندگی کا امکان


زحل کے سب سے بڑے چاند ٹائیٹن کی سطح کی یہ تصویر خلائی جہاز سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو سامنے رکھتے ہوئے ناسا کے ایک آرٹسٹ نے تیار کی ہے۔

زمین سے باہر زندگی کی تلاش خلائی سائنس دانوں کا ایک محبوب موضوع ہے۔ انسان خلائی تحقیق کے آغاز سے ہی یہ جستجو کر رہا ہے کہ اسے کسی شکل میں، کسی سیارے پر، کسی کہکشاں میں یا خلا میں کہیں بھی زندگی مل جائے اور اسے یہ سکون و قرار مل جائے کہ اس کائنات میں وہ تنہا نہیں ہے، بلکہ کوئی اور بھی ہے جس سے کبھی نہ کبھی, کسی طرح کا کوئی رابطہ ہو جائے گا۔

شروع میں سائنس دانوں کا خیال تھا کہ ہمارے نظام شمسی میں مریخ ایک ایسا سیارہ ہے جہاں زندگی کی کوئی صورت ہو سکتی ہے۔ کیونکہ اس کی فضا کا بڑا حصہ کاربن ڈائی اکسائیڈ پر مشتمل ہے جس کا ایک جزو حیات بخش آکسیجن ہے۔

سائنس دان مریخ پر کئی مشن بھیج چکے ہیں اور نہ صرف مریخ کے مدار میں راکٹ گردش کر رہے ہیں بلکہ اس کی سطح پر بھی چار روبوٹک گاڑیاں اتاری جا چکی ہیں جبکہ زیادہ جدید پانچویں روبوٹک گاڑی اگلے سال مریخ پر اتاری جائے گی۔ یہ سائنسی مشن سرخ سیارے کی سطح، معدنیات اور موسم کے بارے میں معلومات زمینی مرکز کو بھیج رہے ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مریخ پر زندگی کی ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ انسان وہاں اپنی کالونیاں بنائے اور اس ویران سیارے کو آباد کرے۔ خلائی سائنس دان آئندہ چند برسوں میں مریخ کی سطح پر انسان بردار راکٹ اتارنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

ناسا کی جدید ترین روبوٹک گاڑی جسے 2020 میں مریخ کی سطح پر اتارا جائے گا۔
ناسا کی جدید ترین روبوٹک گاڑی جسے 2020 میں مریخ کی سطح پر اتارا جائے گا۔

مریخ کے بعد سائنس دانوں کی توجہ کا ایک اور اہم مرکز کوئی سیارہ نہیں بلکہ ہمارے نظام شمسی کے ایک دور افتادہ سیارے زحل کا چاند ہے۔ زحل یعنی سیڑن ایک بڑا غیر معمولی سیارہ ہے۔ ہمارے نظام شمسی میں اس کا نمبر چھٹا ہے۔ اس کے 62 چاند ہیں جن میں سے ٹائیٹن نامی چاند سب سے بڑا ہے۔ وہ اتنا بڑا ہے کہ عطارد اور نظام شمسی کا ایک اور سیارہ پلاٹو اس کے سامنے بچے لگتے ہیں۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ٹائی ٹین پر زندگی کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہاں ایسے نامیاتی مرکبات موجود ہیں جن سے جراثیمی زندگی پروان چڑھ سکتی ہے۔

امریکی خلائی ادارے ناسا نے حال ہی میں سیٹرن کے چاند ٹائیٹن کی ایک تصویر جاری کی ہے۔ جسے سیٹرن اور اس کے چاندوں کے بارے میں خلائی جہاز ’ کسینی‘ سے موصول ہونے والے ڈیٹا سے بنایا گیا ہے۔ یہ ڈیٹا 2004 سے 2017 کے دوران حاصل کیا گیا۔

ناسا کی خلائی دور بین سے اتارئی گئی زحل کی تصویر جس میں اس کے گرد گھومنے والے کئی چاند بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ بڑا چاند ٹائی ٹین نمایاں ہے۔
ناسا کی خلائی دور بین سے اتارئی گئی زحل کی تصویر جس میں اس کے گرد گھومنے والے کئی چاند بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ بڑا چاند ٹائی ٹین نمایاں ہے۔

ٹائی ٹین کا قطر 3200 میل ہے اور یہ مشتری کے چاند’ گینی میڈ ‘کے بعد اس نظام شمسی کا دوسرا سب سے بڑا چاند ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ٹائی ٹین میں بڑی مقدار میں نامیاتی مرکبات پائے جاتے ہیں۔ کاربن کے امتزاج سے بنے ہوئے یہ مرکبات زندگی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہاں بڑی مقدار میں میتھین اور دوسری گیسیں بھی پائی جاتی ہیں۔ لیکن چونکہ یہ چاند بہت سرد ہے اس لیے یہ گیسیں مائع حالت میں ہیں۔

ٹائیٹن سے متعلق تازہ معلومات میں بتایا گیا ہے کہ اس کی 65 فی صد سطح ہموار اور 17 فی صد رقبے پر چھوٹے بڑے ٹیلے ہیں۔ یہاں بارش کثرت سے ہوتی ہے۔

ٹائی ٹین کی سطح منجمد ہے، تاہم سائنس دان کہتے ہیں کہ سطح سے بہت نیچے جہاں درجہ حرارت امکانی طور پر نسبتاً زیادہ اور زندگی کے لیے ساز گار ہے، وہاں جراثیمی شکل میں زندگی خارج از امکان نہیں، کیونکہ زندگی کے آغاز اور افزائش کے لیے جن نامیاتی مرکبات کی ضرورت ہے وہ ٹائیٹن پر وافر مقدار میں موجود ہیں۔

ٹائیٹن پر تحقیق کرنے والی خلائی سائنس دانوں کی ٹیم کے ایک رکن مائیکل میلاسکا کہتے ہیں کہ ہماری زمین پر بھی زندگی اسی طرح شروع ہوئی تھی۔ اس میں بنیادی کردار ہائیڈرو کاربن اور پانی نے ادا کیا۔ وہاں یہ چیزیں موجود ہیں۔ اگر سطح سے نیچے درجہ حرارت سازگار ہو تو زندگی پنپ سکتی ہے۔

امریکی خلائی ادارہ ناسا ٹائیٹن کے قریبی مشاہدے اور تفصیلی معلومات کے لیے 2034 میں ’ ڈریگن فلائی ‘نامی مشن بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس مشن میں ایک خصوصی ڈرون بھی شامل ہو گا جو ٹائی ٹین کی سطح کی کیمسٹری اور زندگی کے امکان پر مواد اکھٹا کرے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG