رسائی کے لنکس

logo-print

'پاک بھارت اختلافات کے خاتمے کے لیے شنگھائی تنظیم بہترین پلیٹ فارم'


پاکستان کے صدر ممنون حسین اور بھارتی وزیر اعظم مودی اجلاس کے دوران مصافحہ کر رہے ہیں

اس تنظیم کے تمام رکن ممالک علاقے میں اپنے اختلافات دور کرنے کیلئے یہ پلیٹ فارم استعمال کر سکیں گے۔

شنگھائی تعاون کی تنظیم کا دو روزہ سربراہ اجلاس اتوار کے روز ختم ہو گیا۔ یہ اجلاس کئی حوالوں سے بہت تاریخی اہمیت کا حامل تھا جس میں سب سے اہم بات بھارت اور پاکستان کی پہلی مرتبہ مکمل رکن کی حیثیت سے شرکت تھی۔

اجلاس کے دوران چین کے صدر شی جنگ پن نے پاکستان کے صدر ممنون حسین اور بھارت کے وزیر اعظم نرندر مودی کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ اُن دونوں کی موجودگی حقیقی معنوں میں تاریخی اہمیت رکھتی ہے۔

چین اور روس کے صدور نے تجویز پیش کی ہے کہ آٹھ ممالک کی یہ تنظیم بھارت اور پاکستان کے باہمی اختلافات ختم کرتے ہوئے امن کا پلیٹ فارم فراہم کر سکتی ہے۔

چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے اجلاس کے بعد میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ شنگھائی تعاون کی تنظیم کو وسعت دیتے ہوئے پاکستان اور بھارت کو شامل کیا گیا ہے اور یہ تنظیم دونوں ملکوں کے درمیان سات دہائیوں سے جاری مخاصمت کو ختم کرنے کیلئے بہترین پلیٹ فارم فراہم کر سکتی ہے۔

اُنہوں نے کہا، ’’ہم جانتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تاریخی طور پر حل طلب تنازعات موجود رہے ہیں۔ تاہم شنگھائی تعاون کی تنظیم میں شامل ہونے کے بعد شاید ہم دونوں ہمسایہ ملکوں کو بہتر تعلقات قائم کرنے کے مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔‘‘

اُنہوں نے مزید کہا، ’’ہم محسوس کرتے ہیں کہ اگرچہ بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں اُتار چڑھاؤ رہا ہے، یہ تنظیم علاقے میں امن و استحکام کی ضمانت دے سکتی ہے۔‘‘

چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کو ایک دوسرے کو اپنے دشمن کے طور پر نہیں دیکھنا چاہئیے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس اجلاس کے دوران پاکستان اور بھارت دونوں نے تنظیم کے اجلاس کے دوران متعدد سمجھوتوں پر اکٹھے دستخط کئے ہیں اور ان کے حوالے سے اُنہوں نے ان سمجھوتوں پر عملداری کی ذمہ داری کا بھی اظہار کیا ہے۔

روسی صدر ولادی میر پوٹن نے بھی اتوار کے روز چینی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے اس اُمید کا اظہار کیا کہ شنگھائی تنظیم بھارت اور پاکستان کو اپنے اختلافات ختم کرنے کیلئے کثیر ملکی پلیٹ فارم مہیا کر سکتی ہے۔ اُنہوں توقع ظاہر کی کہ

اس تنظیم کے تمام رکن ممالک علاقے میں اپنے اختلافات دور کرنے کیلئے یہ پلیٹ فارم استعمال کر سکیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اجلاس کے دوران بظاہر بھارت نے بھی پاکستان کے بارے میں اُس انداز کی سخت بات نہیں کی جو وہ دہشت گردی کے حوالے سے کرتا آیا ہے۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت شنگھائی تنظیم کے تحت پاکستان۔ افغانستان راہداری کو استعمال کرتے ہوئے وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی کی راہیں تلاش کرنے کا خواہشمند ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG