رسائی کے لنکس

logo-print

اسکاٹ لینڈ: برطانیہ کے ساتھ رہنے کے حامیوں کی فتح


برطانیہ کا حصہ بنے رہنے کے حق میں تقریباً 55 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ اسکاٹ لینڈ میں اہل ووٹروں کی تعداد 42 لاکھ سے زائد تھی اور ریفرنڈم میں ڈالے گئے ووٹوں کی شرح نوے فیصد بھی زائد بتائی جا رہی ہے۔

اسکاٹ لینڈ کی برطانیہ سے علیحدگی کے لیے کروائے گئے ریفرنڈم میں اکثریت نے اس کی مخالفت کی ہے۔

عوام سے ریفرنڈ میں پوچھا گیا تھا کہ "کیا اسکاٹ لینڈ کو ایک آزاد ملک ہونا چاہیے؟" اور جمعرات کو ہونے والی رائے شماری میں اکثریت نے اس سوال کے جواب میں نہیں کے حق میں ووٹ دیا۔

اہل ووٹروں کی تعداد 42 لاکھ سے زائد تھی اور ریفرنڈم میں ڈالے گئے ووٹوں کی شرح نوے فیصد بھی زائد بتائی جا رہی ہے۔

برطانیہ کا حصہ بنے رہنے کے حق میں تقریباً 55 فیصد ووٹ ڈالے گئے یعنی کل 32 کونسلز میں 26 نے علیحدگی کی مخالفت کی۔

برطانیہ کے نائب وزیراعظم نک کلیگ کا ابتدائی نتائج کے بعد کہنا تھا یہ انگلینڈ کے آئین میں اب بڑے پیمانے پر اصلاحات کا اشارہ ہے۔

آزادی کے حامی فرسٹ منسٹر ایلکس سلمنڈ نے کہا کہ "ہم جانتے ہیں کہ، نہیں، کے حق میں اکثریت نے ووٹ دیے" اور ان کے بقول اسکاٹ لینڈ کے عوام نتائج تسلیم کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ رائے شماری "جمہوری عمل کی کامیابی ثابت ہوئی"۔

اسکاٹ لینڈ کا 1707 میں برطانیہ کے ساتھ الحاق ہوا تھا۔ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون یہ کہہ چکے ہیں کہ برطانیہ کا حصہ بنے رہنے پر اسکاٹ لینڈ کے لیے بہت سی اقتصادی اصلاحات کی جائیں گی۔

وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے لندن میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ریفرنڈم سے پہلے اسکاٹ لینڈ کے لیے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے گی۔

اس میں اسکاٹ لینڈ کو زیادہ اختیارات، محصولات جمع کرنے کا اختیار اور اسکاٹش عوام کےلیے زائد رقم عوامی فنڈ کے لیے مختص کرنا بھی شامل ہے۔

ان کے بقول ان پر نومبر میں اتفاق کے بعد جنوری میں مسودہ قانون تیار کر لیا جائے گا۔

"ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ان وعدوں کی مکمل پاسداری کی جائے۔"

کیمرون کا کہنا تھا کہ ایسے ہی حقوق ویلز اور شمالی آئرلینڈ کو بھی دیے جائیں گے۔

XS
SM
MD
LG