رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت کے لاپتا ٹرانسپورٹ طیارے کی تلاش دوبارہ شروع


بھارتی فضائیہ کا جہاز AN-32 محو پرواز ہے۔ (فائل فوٹو)

بھارت کی ریاست اروناچل پردیش میں بھارتی فضائیہ کے دوران پرواز لاپتا ہو جانے والے ٹرانسپورٹ طیارے AN-32 کی تلاش کا کام منگل کو دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔ تلاش کی مہم میں فضائیہ، بحریہ اور زمینی افواج کے یونٹ حصہ لے رہے ہیں اور سٹلائٹ امیجنگ سے بھی مدد لی جا رہی ہے۔

بھارتی فضائیہ کا یہ جہاز عملے کے آٹھ ارکان سمیت 13 افراد کے ساتھ پیر کو ریاست آسام کے مقام جورہٹ سے اروناچل پردیش کے مغربی ڈسٹرکٹ سیانگ روانہ ہوا تھا۔ یہ جہاز پرواز کے 35 منٹ بعد اس وقت اچانک لاپتا ہو گیا جب وہ اپنی منزل مقصود سے صرف 70 کلومیٹر دور تھا۔

بھارتی فضائیہ اور زمینی فوج کے طیارے لاپتا ہونے والے ٹرانسپورٹ جہاز کو تلاش کرنے کے لیے رات بھر علاقے میں پرواز کرتے رہے، جب کہ زمینی فوج کے دستے بھی ریاست کے گھنے جنگلوں کو چھانتے رہے۔ تاہم جہاز کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

تلاش کا کام منگل کے روز دوبارہ شروع کر دیا گیا جس میں بھارتی بحریہ کے امریکی ساخت کے P8i میری ٹائم جہاز بھی شامل ہو گئے ہیں، جنہیں عرف عام میں آبدوز کا شکار کرنے والے طیارے کہا جاتا ہے۔

جہاز میں کافی مقدار میں ایندھن موجود تھا جس کی وجہ سے طیارہ زیادہ فاصلے تک پرواز کر سکتا تھا۔ اس امکان کے پیش نظر تلاش کا دائرہ سینکڑوں کلومیٹر رقبے تک پھیلا دیا گیا ہے۔ تاہم بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ گھنے جنگل تلاش کے کام میں رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ لاپتا ہونے والا جہاز AN-32 ایسے آلات سے لیس ہے جو کسی ہنگامی صورت حال میں خود بخود متعدد ریڈیو فریکوئنسیز پر سگنل بھیجنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم کسی پہاڑ یا کوئی اور رکاوٹ سگنلز کے درمیان میں آنے کی صورت میں وہ متاثر ہو سکتے ہیں۔

بھارتی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اسے لاپتا ہونے والے جہاز کی طرف سے کوئی سگنل موصول نہیں ہوئے۔

بھارتی فضائیہ کے AN-32 جہازوں کو اس سے پہلے بھی کئی بار حادثے پیش آ چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG