رسائی کے لنکس

logo-print

افغان مشیر امریکی محکمہٴ خارجہ طلب، تنقیدی بیان مسترد


افغان قومی سلامتی کے مشیر، حمداللہ محب (فائل)

امریکی معاون وزیر برائے سیاسی امور، ڈیوڈ ہیل نے جمعرات کے روز افغان قومی سلامتی کے مشیر حمداللہ محب کو طلب کیا، جس دوران انہوں نے مفاہمت کے حوالے سے امریکی انداز کے بارے میں محب کے مبینہ تنقیدی بیان کو مسترد کیا۔

یہ بات امریکی محکمہ خارجہ کے معاون ترجمان، رابرٹ پلاڈینو نے ایک اخباری بیان میں کہی ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ’’ ڈیوڈ ہیل نے امریکہ کی جانب سے طویل مدت سے افغانستان کی اعانت اور حمایت کی نشاندہی کی‘‘۔

انہوں نے کہا کہ’’ انڈر سیکرٹری ہیل نے افغان حکومت کے استحکام اور امن عمل میں مکمل شرکت کے حوالے سے ہمارے عزم کا اظہار کیا‘‘۔

پلاڈینو نے کہا کہ’’ انہوں نے قومی سلامتی کے مشیر، محب کو یاد دہانی کرائی کہ نمائندہ خصوصی خلیل زاد دراصل وزیر خارجہ کے نمائندے ہیں، اور یہ کہ ایمبسڈر خلیل زاد پر حملے محکمہٴ خارجہ پر حملے تصور ہوں گے، اور ایسا بیان باہمی تعلقات اور امن عمل میں رکاوٹ کا باعث ہی بنے گا۔‘‘

افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر نے جمعرات امریکہ طالبان کے مذاکرات پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نےافغان حکومت کو الگ کر کے عسکریت پسندوں کے نیٹ ورک کو جائز قرار دیے کر ایسا سمجھوتہ وضع کر رہے ہیں جس سے کبھی بھی امن قائم نہیں ہو گا۔

خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 'احمد اللہ محب نے یہ بات واشنگٹن میں نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی جس پر امریکہ کے محکمہ خارجہ نے انہیں تنبیہ کی ہے۔

افغان قومی سلامتی کے مشیر نے کہا کہ " اگر ہم نے امن قائم کرنا ہے، یہ صرف کسی دور پار جگہ پر صرف کوئی سمجھوتہ طے کرنے سے نہیں ہو گا جس میں ہم (افغان حکومت) شامل نہیں ہے۔"

واضح رہے کہ امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بات چیت کی کئی دور ہو چکے ہیں۔

محب نے، جو واشنگٹن میں افغانستان کے سفیر کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں، خلیل زاد کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو امریکہ کے نمائندہ خصوصی نمائندے کی حیثیت میں طالبان سے مذاكرات کر رہے ہیں۔ محب نے اس طرف سے بھی اشارہ کیا کہ افغان نژادخلیل زاد جو بات چیت طالبان سے کر رہے ہیں اس سے یہ شکوک ابھرتے ہیں کہ وہ اپنے آبائی وطن کی قیادت کرنا چاہتے ہیں۔

محب نے کہا " افغانستان میں ایک تاثر ہے اور حکومت میں شامل لوگوں کا بھی یہ خیال ہے کہ شاید۔ یہ تمام (طالبان کے ساتھ) بات چیت ایک نگران حکومت تشکیل دینے کے ہو رہی ہے جس کے وہ (خلیل زاد) وائسرے بن جائیں گے۔"

محب نے دعویٰ کیا کہ 2009 اور بعد ازاں2014 میں جب اشرف غنی صدر بنے تھے اس وقت بھی ان خلیل زاد کی نظر اس عہدے پر تھی۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والی بات چیت میں زیر بحث آنے والے امور سے متعلق شفافیت سے ایسی قیاس آرائیوں کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG