رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی: سکیورٹی گارڈ کی فائرنگ سے 11 سالہ بچہ ہلاک


بچے کے والد شوکت علی کی مدعیت میں مقدمہ درج ہوچکا ہے۔ ایف آئی آر میں نجی کمپنی کے سیکورٹی گارڈ کو قتل کی دفعہ 302 کے تحت ملزم ٹھہرایا گیا ہے۔

کراچی میں پچھلے کئی سال سے امن و امان کی صورتحال تسلی بخش نہیں جس کے عوض عام آدمی کااحساس عدم تحفظ بڑھ رہا ہے۔ ایک عام مشاہدے کے مطابق تحفظ کی غرض سے سیکورٹی ایجنسیوں کا کردار وسیع ہورہا ہے لیکن سیکورٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں کے ہاتھوں ہی بہت سے سنگین واقعات بھی رونما ہو رہے ہیں۔ انہی میں سے ایک واقعہ فیروز آباد میں دو روز قبل پیش آیا۔

فیروز آباد شہر کے پوش ایریاز میں سے ایک ہے۔ یہاں ایک سیکورٹی گارڈ کی فائرنگ سے گیارہ سالہ معصوم بچہ محض اس بنا پر لقمہ اجل بن گیا کہ بچے نے فلموں سے متاثر ہوکر ڈراوٴنا ماسک پہنا اور سڑک پر نکل گیا۔ گھر سے کچھ قدم کے فاصلے پر اسے سیکورٹی گارڈ نظر آیا تو اس نے اچانک اس کے قریب پہنچ کر اسے ڈرادیا۔

سیکورٹی گارڈ بچے کی ایک معصومانہ حرکت سے اس بری طرح بوکھلایا کہ اس سے فائر ہوگیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں علی حسن ولد شوکت علی وہیں ڈھیر ہوگیا۔ فائرنگ کی آواز پر پورا محلہ جمع ہوگیا۔ بچے کے والدین بھی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بیٹے کی طرف لپکے مگر تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔

محلے والوں نے گارڈز کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا۔ ایس ایس پی ایسٹ کیپٹن ریٹائرڈ فیصل عبداللہ نے میڈیا کو بتایا کہ واقعہ فیروزآباد میں امیر خسرو روڈ پر کمال پارک کے قریب پیش آیا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے سیکورٹی گارڈ غلام نبی کو حراست میں لے لیا ہے۔

بچے کے والد شوکت علی کی مدعیت میں مقدمہ درج ہوچکا ہے۔ ایف آئی آر میں نجی کمپنی کے سیکورٹی گارڈ کو قتل کی دفعہ 302 کے تحت ملزم ٹھہرایا گیا ہے۔

آل پاکستان سیکورٹی ایجنسیز ایسوسی ایشن کے چیئرمین بریگیڈیئر (ر) رشید ملک نے میڈیا کو بتایا کہ گارڈ کا ردعمل فطری تھا۔ گارڈ نے شہر کے موجودہ حالات کو ذہن میں رکھتے ہوئے فائر کیا۔

ادھر گارڈ غلام نبی نے مقامی میڈیا کو ایک بیان میں بتایا کہ وہ ہوائی فائرکرنا چاہتا تھا مگر اپنی ناتجربہ کاری کی بنا پر ہتھیار فضا میں کندھے سے اوپر تک لے جانے سے پہلے ہی غلطی سے گولی چلا بیٹھا۔ ایسا اس لئے بھی ہوا کہ وہ غیر تربیت یافتہ ہے۔ حال ہی میں بے روزگاری سے تنگ آکر آبائی علاقے سے کراچی آیا تھا اور سیکورٹی ایجنسی میں بھرتی ہوا تھا۔

XS
SM
MD
LG