رسائی کے لنکس

وزیرستان میں عسکریت پسندوں سے مبینہ جھڑپ، سات سیکیورٹی اہل کار ہلاک


فائل فوٹو

پاکستان میں سیکیورٹی حکام نے کہا ہے کہ افغانستان سے ملحقہ قبائلی ضلعے جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز اور مبینہ عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپ میں سات اہل کار ہلاک ہو گئے ہیں۔

بدھ کی صبح ہونے والی جھڑپ کے حوالے سے پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے جاری کردہ بیان کے مطابق اہل کاروں پر ایک کارروائی کے دوران عسکریت پسندوں نے حملہ کیا تھا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی جوابی کاروائی میں پانچ عسکریت پسند بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

اس جھڑپ کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور تلاشی مہم شروع کر دی۔ اس آپریشن کے بارے مزید تفصیلات ابھی تک موصول نہیں ہو سکی ہیں۔

جنوبی وزیرستان کی تحصیل لدھا سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب فائرنگ اور ہیلی کاپٹروں کے اڑنے کی آوازیں سنائی دی تھیں جس سے معلوم ہو رہا تھا کہ سیکیورٹی فورسز اور مبینہ عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔

دوسری جانب پاکستان میں کالعدم عسکریت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ترجمان کے جاری کردہ بیان میں ٹی ٹی پی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

گزشتہ تین دن کے دوران جنوبی وزیرستان کے تحصیل لدھا میں دہشت گردی کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے۔ پیر کو لدھا کے بدر پل کے قریب سیکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی پر مبینہ خود کش حملے میں ایک سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق جنوبی وزیرستان میں لگ بھگ 10 برس کے بعد سیکیورٹی فورسز پر خود کش کیا گیا ہے۔ اس حملے پر سرکاری طور پر کسی قسم کے ردِ عمل کا ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب جنوبی وزیرستان سے ملحقہ شمالی وزیرستان کی انتظامیہ میں شامل حکام نے منگل کو تحصیل دتہ خیل میں فورسز اور مبینہ دہشت گردوں میں جھڑپ میں دو مبینہ عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔

مبصرین کے مطابق افغانستان میں گزشتہ ماہ 15 اگست کو طالبان کے قابل پر قابض ہونے کے بعد وزیرستان اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی اور تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

خیال رہے کہ طالبان نے ملک پر قابض ہوتے ہی کابل سمیت ملک کی تمام جیلوں سے قیدیوں کو رہا کر دیا تھا۔ رہائی پانے والوں میں پاکستان میں کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے جنگجو بھی شامل تھے۔

کابل میں موجود صحافی سید رحمٰن رحمانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ افغانستان میں جیلوں سے رہائی پانے والوں میں ٹی ٹی پی کے سابق ڈپٹی کمانڈر مولوی فقیر محمد بھی شامل تھے جن کو کابل کی ایک جیل سے رہائی ملنے کے بعد جلوس کی شکل میں پاکستان کے ساتھ افغان سرحدی صوبے کنڑ کے علاقے شیگل لے جایا گیا۔ مولوی فقیر محمد کا خاندان 2010 کے بعد اسی علاقے میں مقیم ہے۔ .

خیبر پختونخوا کے سابق سیکریٹری داخلہ اور ریٹائرڈ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس سید اختر علی شاہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ دہشت گردی ایک ذہنیت کا نام ہے۔ اور اس کو ختم کیے بغیر خطے سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ذہنیت کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر لائحہ عمل مرتب کرنا ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG