رسائی کے لنکس

logo-print

شیکسپیئر کا 'کنگ لیئر' لاہور میں

لاہور کے الحمرا آرٹس کونسل میں انگریزی کے مشہور ناول نویس شیکسپیئر کے ڈرامے 'کنگ لیئر' کو اُردو ترجمے کے ساتھ پیش کیا گیا۔ شیکسپیئر کے اس ڈرامے کے مطابق کنگ لیئر برطانیہ کا بادشاہ ہے۔ گونرل، ریگن اور کارڈیلیا اس کی بیٹیاں ہیں۔ تینوں شادی شدہ ہیں۔
بادشاہ تینوں بیٹیوں سے پوچھتا ہے کہ وہ اس سے کتنی محبت کرتی ہیں؟ دو بیٹیاں گونرل اور ریگن بناوٹی اور جھوٹے الفاظ کا سہارا لے کر اپنے باپ بادشاہ لیئر کو بتاتی ہیں کہ وہ دونوں اُس سے بے پناہ محبت کرتی ہیں۔ بادشاہ کو یہی انداز اچھا لگتا ہے۔ بادشاہ اُنہیں اپنی جائیداد کا ایک بڑا حصہ انعام کے طور پر دیتا ہے۔
تیسری بیٹی کارڈیلیا، جو اپنے باپ سے سچی محبت کرتی ہے، کہتی ہے کہ میں آپ کو اتنا چاہتی ہوں جتنا میرا فرض ہے۔ نہ اس سے زیادہ نہ کم۔ جس پر بادشاہ خفا ہو جاتا ہے اور اُسے عاق کر دیتا ہے۔
جائیداد حاصل کرنے کے بعد دونوں بیٹیاں باپ کے شاہی محافظوں اور خادموں کو ہٹا دیتی ہیں۔بادشاہ کے پاس صرف اُس کا شاہی مسخرا الیئر رہ جاتا ہے۔ جو اپنی لطیفہ گوئی، بزلہ سنجی اور لطیفوں کے ذریعے بادشاہ کا غم کم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
کنگ لیئر اپنی دو چیہتی بیٹیوں کے رویئے سے تنگ آ کر عاق کی ہوئی بیٹی کارڈیلیا کے پاس جاتا ہے اور کہتا ہے کہ کنگ لیئر شرمندہ ہے۔
جنگ میں کارڈیلیا کو پھانسی دے دی جاتی ہے تو کنگ لیئر بھی اس کے پہلو میں دم توڑ دیتا ہے۔
کنگ لیئر کے ساتھ دوسرا بوڑھا گلوسٹر ہے۔ وہ ایڈگر اور ایڈمنڈ کا باپ ہے۔ ایڈمنڈ اس کا ناجائز بیٹا ہے۔ جو دھوکے سے اپنے باپ کی ساری جائیداد ہتھیا لیتا ہے اور اپنے باپ گلوسٹر کی آنکھیں نکال کر پیروں سے مسل دیتا ہے۔ جس پر گلوسٹر شیکسپیئر کے مشہور ڈائیلاگ 'دیوتاؤں کے ہاتھوں انسان کی وہی حالت ہے جو شریر لڑکوں کے ہاتھوں مکھیوں کی ہوتی ہے' بولتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔

مزید لوڈ کریں

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG