رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان میں غذائی عدم تحفظ کے شکار افراد کی تعداد میں اضافہ: اقوام متحدہ


رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ ایسے گھرانے جس کی سربراہ خاتون ہے وہاں غذائی عدم تحفظ کا خطرہ دیگر لوگوں سے 50 فیصد زیادہ رہا۔

افغانستان میں بسنے والوں کی ایک بڑی تعداد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے جسے پورا کرنے کے لیے ان لوگوں کو بے انتہا کوششیں کرنا پڑ رہی ہیں۔

اقوام متحدہ اور اس کے دیگر شراکتی اداروں نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ جنگ سے تباہ حال اس ملک میں 15 لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں جب کہ 73 لاکھ افراد درمیانے درجے کے غذائی عدم تحفظ میں مبتلا ہیں اور یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہر چار شہریوں میں سے ایک سے زائد کو اس پریشانی کا سامنا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ لوگوں کی اپنی ضروریات کے لیے غذائیت والی خوراک تک رسائی نہیں ہے۔

2015ء سے متعلق جاری کئی گئی اس رپورٹ کے مطابق ایسے میں جب لوگ پہلے ہی مختلف مصیبتوں کی وجہ سے پریشان حال ہیں غذائی عدم تحفظ کے باعث اب وہ اپنی زمین بیچنے اور بچوں کو اسکولوں سے ہٹا کر کام پر لگانے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے عہدیدار ٹومیو شیچیری کہتے ہیں کہ " گوکہ رواں سال افغانستان میں گندم کی پیداوار قدرے زیادہ ہو گی، لیکن لوگوں کی ایک بڑی تعداد اسے بازار سے خریدنے کے قابل نہیں ہو گی۔ یہاں سوال خوراک تک رسائی کا نہ کہ پیداوار کا۔"

رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ ایسے گھرانے جس کی سربراہ خاتون ہے وہاں غذائی عدم تحفظ کا خطرہ دیگر لوگوں سے 50 فیصد زیادہ رہا۔

امدادی اداروں نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مالی امداد فراہم کرنے کی درخواست بھی کی ہے۔

XS
SM
MD
LG