رسائی کے لنکس

logo-print

پلوامہ حملے پر سدھو کا ‘متنازع بیان’، اسمبلی میں ہنگامہ


فائل فوٹو

بھارت کی کانگریس پارٹی کے رہنما اور پنجاب حکومت میں وزیر نوجوت سنگھ سدھو پلوامہ خود کش حملے پر دیے گئے اپنے ایک بیان سے ایک بار پھر تنازعہ میں گھر گئے ہیں۔ حملے کے بعد پاکستان کے خلاف کارروائی کے مطالبوں کے درمیان سدھو نے کہا تھا کہ ”مٹھی بھر لوگوں کی حرکتوں کے لیے کیا ایک پورے ملک کو یا کسی ایک شخص کو مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے“۔

انھوں نے مذاکرات سے دہشت گردی کے مسئلے کو حل کرنے کی وکالت بھی کی تھی۔

سدھو کے بیان پر الگ الگ رد عمل ظاہر کیا جا رہا تھا مگر پیر کے روز پنجاب اسمبلی میں اس پر زبردست ہنگامہ ہوا۔ حزب مخالف کی جماعت، عام آدمی پارٹی ، کے ارکان نے واک آوٹ کیا اور ‘اکالی دل’ اور ‘بی جے پی’ کے ارکان نے سدھو کو کابینہ اور کانگریس پارٹی سے برطرف کرنے کا مطالبہ کیا۔

اسمبلی کے اجلاس کے دوران اکالی دل کے رکن بکرم سنگھ مجیٹھیا اور نوجوت سنگھ سدھو کے درمیان کافی تلخ کلامی ہوئی۔ دونوں نے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرایا۔

اجلاس شروع ہونے سے قبل مجیٹھیا نے صوبائی اسمبلی کے ایوان کے باہر پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے گلے ملتے ہوئے سدھو کی تصویر اور پاکستان کا پرچم نذر آتش کیا۔ جس پر سدھو اور مجیٹھیا میں زبردست زبانی جھڑپ ہوئی۔

جب ہنگامہ آرائی بہت زیادہ ہونے لگی تو اسمبلی کے سیکورٹی عملے نے مداخلت کی اور دونوں کو خاموش کرایا۔

ہنگامہ آرائی کے درمیان وزیر خزانہ من پریت سنگھ بادل نے امریندر حکومت کی جانب سے اگلے سال کا بجٹ پیش کیا۔

پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ پرکاش سنگھ بادل نے بھی نوجوت سنگھ سدھو کو کانگریس پارٹی سے برطرف کرنے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ”جو لوگ ملک مخالف بیانات دے رہے ہیں ان کے خلاف کیس درج کیا جانا چاہیے“۔

ہنگامے کے بعد سدھو نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے سابقہ این ڈی اے حکومت پر شدید تنقید کی اور یاد دلایا کہ اسی حکومت نے 1999ء میں مسعود اظہر کو رہا کیا تھا اور قندھار لے جا کر چھوڑا تھا۔

1999 میں عسکریت پسندوں نے ایک ہندوستانی طیارہ ہائی جیک کیا تھا جسے قندھار لے جایا گیا تھا۔ ہائی جیک کرنے والوں نے ہندوستانی جیل میں بند مسعود اظہر سمیت تین مبینہ دہشت گردوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ہائی جیکروں نے دھمکی دی تھی کہ اگر ان کو رہا نہیں کیا گیا تو وہ طیارے کو اڑا دیں گے۔ اس وقت طیارہ میں 180 مسافر اور عملے کے لوگ بھی موجود تھے۔ اس وقت کے بھارتی وزیر خارجہ جسونت سنگھ نے مسعود اظہر سمیت تینوں دیگر افراد کو قندھار لے جا کر چھوڑا تھا۔

پلوامہ حملے کے بعد سدھو نے یہ کہتے ہوئے کہ مٹھی بھر لوگوں کی حرکتوں کے لیے پورے ملک کو مورد الزام نھیں ٹھہرایا جا سکتا تھا ْ سدھو نے معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ‘‘دہشت گردی کا نہ تو کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی ملک۔’’

آج انھوں نے کہا کہ جو لوگ اس حملے کے ذمے دار ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے اور انھیں ایسی سزا دی جانی چاہیے کہ ان کی آنے والی نسلیں بھی یاد رکھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG