رسائی کے لنکس

logo-print

تجارتی معاہدے کی منظوری باہمی مفاد میں: اوباما اور سئین لونگ


’یو ایس چیمبر آف کامرس‘ میں پیر کے روز اپنے کلمات میں لی نے کہا کہ یہ سمجھوتا امریکہ کو منڈیوں تک بہتر رسائی فراہم کرے گا، جو عالمی معیشت کی 40 فی صد کے مساوی مارکیٹ ہے

صدر اوباما اور سنگاپور کے وزیر اعظم لی سئین لونگ نے اپنے اِس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ متنازعہ بین البحرالکاہل پارٹنرشپ معاہدے (ٹی پی پی) کی منظوری دی جائے گی۔

وائٹ ہاؤس میں منگل کے روز اوباما اور لی نے ’ٹرانس پیسیفک پارٹنرشپ (ٹی پی پی)‘ کے 12 ملکی تجارتی معاہدے پر گفتگو کی جس کی اِن دِنوں کانگریس میں منظوری کا معاملہ رُکا ہوا ہے۔

صدر اوباما نے منگل کے روز کہا ہے کہ ’’عالمی معیشت میں تجارت کا وعدہ نبھانے میں تساہل درست نہ ہوگا۔ معاہدہ دیرپہ ثابت ہوگا۔ ہماری معیشتوں کا ایک دوسرے پر انحصار ہے۔ یہ ممکن نہ ہوگا کہ ہم الگ تھلگ رہیں۔ تجارت کے معاملے پر پُلیں باندھنا صرف ہمارے کارکنان کے لیے ہی نقصاندہ ثابت ہوگا۔ اس لیے، اس سے نمٹنے کا یقینی طریقہ یہ ہے کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں کی عالمگیریت اور تجارت کا عمل ہمارے فائدے کا ہو نا کہ اِس کے برعکس‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’یہی وجہ ہے کہ آج ہم ’ٹرانس پیسیفک پارٹنرشپ‘ پر عمل درآمد کے اپنے عزم کی پاسداری کرتے ہیں۔ میں ٹی پی پی کا ٹھوس حامی ہوں‘‘۔

لی نے کہا کہ ’’ہمیں امید ہے، اور مجھے پتا ہے کہ صدر کو اِسی کی توقع ہے کہ کانگریس بہت جلد ٹی پی پی کی منظوری دے گی‘‘۔

’یو ایس چیمبر آف کامرس‘ میں پیر کے روز اپنے کلمات میں لی نے کہا کہ یہ سمجھوتا امریکہ کو منڈیوں تک بہتر رسائی فراہم کرے گا، جو عالمی معیشت کی 40 فی صد کے مساوی مارکیٹ ہے۔

سنگاپور کے ساتھ امریکی سفارتی تعلقات کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر، لی منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں اوباما کے ساتھ سرکاری عشائیے میں شرکت کر رہے ہیں، جو سنہ 1985ء کے بعد سنگاپور کے کسی سربراہ کے ساتھ پہلا موقع ہے۔

XS
SM
MD
LG