رسائی کے لنکس

logo-print

بچوں کے بیڈروم میں نئے گیجٹس کی موجودگی نقصان دہ: تحقیق


تحقیق کا مقصد بچوں کے بیڈ روم میں ٹی وی اسکرینوں سمیت جدید موبائل فونز اور چھوٹی چھوٹی اسکرینوں والی اشیا کے منفی اثرات کے بارے میں والدین کو خبردار کرنا ہے

ایک تازہ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ وہ بچے جو اپنے کمروں میں اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹ رکھنے کے عادی ہیں وہ رات بھر کم نیند لیتے ہیں، بنسبت ان کے جن بچوں کے کمروں میں ٹیبلٹ کمپیوٹر یا کوئی اور اسمارٹ فون کی رسائی نا ہو۔

تحقیق کے مطابق، موبائل فونز اور ٹیبلٹ کی بظاہر 'چھوٹی چھوٹی اسکرینیں' بچوں کیلئے ٹی وی اسکرینوں سے بھی زیادہ بدتر ثابت ہو رہی ہیں، کیونکہ یہ چھوٹی چھوٹی اسکرینیں ان بچوں کے نیند میں خلل کا باعث بن رہی ہیں۔

بچے رات بھر ان اسکرینوں پر کوئی نا کوئی گیمز کھیلنے یا دوستوں سے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سے'ان ٹچ' رہتے ہیں، جس کے رات گئے تک استعمال سے وہ رات کی بھرپور نیند نہیں لے پاتے۔

تحقیق کے مطابق، 2000 بچوں کے سونے کے اوقات نوٹ کئےگئے جسمیں اس بات کا نتیجہ سامنے آیا ہے کہ موبائل اور آئی پیڈ اور ٹیبلٹز ساتھ لے کر سونے والے بچوں کی نیند میں 21 منٹ کی کمی جبکہ ان چیزوں کے رات بھر استعمال نا کرنےوالے بچوں کی نیند میں رات کے اوقات میں 21 منٹ زیادہ نیند کے اوقات سامنے آئے۔

جبکہ موبائلز فون اور دیگرنئی ٹیکنالوجیز والی اشیا کے علاوہ بچوں کے سونے کے کمروں میں ٹی وی اسکرینوں کی موجودگی کے مطابق بچوں کے نیند کے ریکارڈ اور اوقات کا مشاہدہ بھی کیا گیا جسمیں 18 منٹ کم نیند کا فرق سامنے آیا بنسبت انکے جن بچوں کے کمروں میں ٹی وی موجود نہیں تھے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ' اے ایف پی' کے مطابق یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ادارے برائے ہیلتھ برکلے اسکول کی جانب سے کی گئی اس تحقیق کا مقصدبچوں کے بیڈ روم میں ٹی وی اسکرینوں سمیت جدید موبائل فونز اور چھوٹی چھوٹی اسکرینوں والی اشیا کے منفی اثرات کے بارے میں والدین کوخبردار کرنا ہے۔

XS
SM
MD
LG