رسائی کے لنکس

logo-print

سمرتی ایرانی کی راہول گاندھی کے خلاف انتخابی ’کہانیاں‘


اپنے حریف راہول گاندھی کو نشانہ بنانے کے لئے سمرتی کے پاس ہر روز ایک نئی کہانی ہوتی ہے۔ سونیا گاندھی کے اس بیان پر کہ میں نے اپنا بیٹا 2004ء میں امیٹھی کے حوالے کردیا تھا، سمرتی کا رد عمل مختلف انداز کا تھا

بھارتی لوک سبھا کے انتخابات میں امیدوار ووٹ حاصل کرنے کے لئے نت نئے طریقے اپنا رہے ہیں؛ لیکن، ’ساس بھی کبھی بہو تھی‘ کی اصولوں کی پاسداری کرنے والی اور خاندان کو جوڑ کر رکھنے والی آئیڈیل بہو ’تلسی‘، یعنی سمرتی ایرانی کے تو انداز ہی نرالے ہیں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے ٹکٹ پر انتخابی میدان میں اترنے والی سمرتی ایرانی، جن کو لوگ ان کے اصل نام سے کم اور ’تلسی‘ کے نام سے زیادہ جانتے ہیں، گاندھی خاندان کو ان کے محفوظ قلعے میں گھس کر چیلنج کر رہی ہیں۔ اور، وہ بھی انوکھے انداز میں۔۔

اترپردیش کے شہرامیٹھی سے کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی کے مقابل الیکشن لڑنے والی تلسی اپنی انتخابی تقریر کو تقریر کی طرح نہیں، بلکہ کہانی کی طرح بیان کرتی ہیں۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ گاندھی ’پریوار‘ کا آبائی حلقہ ہونے کے باوجود، سمرتی کے جلسوں میں لوگوں کی بڑی تعداد تو شریک ہوتی ہی ہے، ساتھ ساتھ، دیگرانتخابی امیدواروں کے مقابلے میں میڈیا کوریج میں بھی تلسی ہی چھائی ہوئی ہیں۔

اپنے حریف، راہول گاندھی کو نشانہ بنانے کے لئے سمرتی کے پاس ہر روز ایک نئی کہانی ہوتی ہے۔ سونیا گاندھی کے اس بیان پرکہ میں نے اپنا بیٹا2004 ءمیں امیٹھی کے حوالے کردیا تھا، سمرتی کا رد عمل مختلف انداز کا تھا۔

سمرتی نے اِس بیان کو لے کر گندم کے سرکاری گوداموں میں سڑنے، پینشن کے مسائل، بے روزگاری اور غربت دکھانے کے لئے2009ءمیں برطانوی وزیراعظم ملی بینڈ کو امیٹھی کے دورے کی دعوت پر اپنے مخصوص انداز میں چوٹ کرتے ہوئے کہا کہ بیٹے کے چار کرتوے (فرض) ہوتے ہیں۔ وہ گھر کا کچن چلا سکے، بڑھاپے میں بزرگوں کا سہارا بن سکے، چھوٹوں کی مدد کر سکے اور خاندان کی عزت اور وقار میں اضافہ کرے۔

بھارتی اخبار ’ہندوستان ٹائمز‘ کا کہنا ہے کہ سمرتی روزمرہ کے مسائل اور کانگریس حکومت کی ناکامی کو طنز و مزاح کی چاشنی میں لپیٹ کر ایسے پیش کرتی ہیں کہ سننے والے بھرپور لطف اٹھاتے ہیں۔ مثلاً، ایک جگہ انہوں نے بات کچھ یوں شروع کی کہ آج صبح میں نے جامو کے نزدیک ایک شخص کو ایل پی جی سلینڈر پر بیٹھے دیکھا۔ میں نے کہا کہ سلینڈر پر نہ بیٹھو یہ پھٹ سکتا ہے۔ تو اس شخص نے جواب دیا، سیلنڈر خالی ہے۔ ڈیڑھ سال سے یہاں ایل پی جی نہیں آئی اور کیروسین بھی شارٹ ہے۔

اسی طرح، امیٹھی میں بجلی کی عدم فراہمی پر سمرتی نے پھر عام آدمی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک شخص کچھ ڈھونڈ رہا تھا۔ پوچھا کیا ڈھونڈ رہے ہو تو جواب ملا ’الیکشن کمیشن‘، تاکہ ان سے درخواست کی جائے کہ یہاں جلدی جلدی الیکشن کرائیں تاکہ علاقے میں بجلی آتی رہے۔

تلسی کی شعلہ بیانی کا امیٹھی کے لوگوں پر کتنا اثر ہوا اس کا فیصلہ 16مئی کو ہوگا۔
XS
SM
MD
LG