رسائی کے لنکس

تمباکو نوشی: کمی اور بیشی میں ملا جلا رحجان

  • اسد نذیر

تمباکو نوشی: کمی اور بیشی میں ملا جلا رحجان

آسٹریلیا، ناروے اور میکسیکو میں اِس عرصے میں تمباکو نوشی میں پانچ فی صد کمی ہوئی ہے۔ اِسی طرح ، یورگوائے پچھلے تین برسوں میں تمباکو نوشی کی شرح 46 فی صد سے گھٹ کر 31 فی صد ہوئی ہے

عالمی ادارہٴ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ اِس قسم کے اشارے ملے ہیں کہ دنیا بھر میں تمباکو نوشی یا تو پچھلے سال کی سطح پر قائم رہی یا کہیں کہیں اِس میں کمی دیکھنے میں آئی۔

اِس کامیابی کا سہرا تمباکو کنٹرول کے بارے میں ڈبلیو ایچ او کے کنونشن فریم ورک کو بھی جاتا ہے۔2005ء میں اِس کنونشن کو نافذ العمل کیا گیا تھا اور اب تک 173ممالک نے اِس کی توثیق کردی ہے۔

کنونشن سکریٹریٹ کے سربراہ ہائیک نیکو گوسیان کا کہنا ہے کہ اِس کی توثیق کرنے والے ممالک نے 80فی صد تک اِس کے بارے میں باقاعدہ قانون سازی کی ہے اور یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔

اُن کے الفاظ میں: ’میرا خیال ہے کہ ہم یہ جنگ جیت رہے ہیں۔ ہرچند کہ تمباکو جیسے متعدی مرض سے چھٹکارا حاصل کرنے میں ابھی کئی سال لگ سکتے ہیں، کیونکہ بعض ممالک کے لیے اب یہی ایک بڑا چیلنج ہے۔ بہرحال اِس کی مکمل بندش میں برسہا برس لگیں گے۔ لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ اِس کی روک تھام جاری ہے۔‘

چھ سال پہلے اِس کنونشن کو نافذ کیا گیا تھا اور اُس کے بعد سے تمباکو نوشی کو ممنوع قرار دینے کی کوششوں میں خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوئی ۔ مثال کے طور پر آسٹریلیا، ناروے اور میکسیکو میں اِس عرصے میں تمباکو نوشی میں پانچ فی صد کمی ہوئی ہے۔ اِسی طرح ، یورگوائے پچھلے تین برسوں میں تمباکو نوشی کی شرح 46فی صد سے گھٹ کر 31فی صد ہوئی ہے۔

عالمی ادارہٴ صحت کے امتناع تمباکو مہم کے پروگرام منیجر ارماندو پراگو کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی کے صحت پر اثرات تباہ کُن ہیں۔ اُن کے بقول، ’اِس سال تمباکو نوشی کی وجہ سے تقریباً 60لاکھ افراد لقمہٴ اجل بن جائیں گے۔ اِن میں 60000سے زیادہ ایسے افراد شامل ہیں جو خود تو تمباکو نوشی نہیں کرتے مگر ایسے ماحول میں رہتے ہیں جہاں تمباکو کا دھواں پھیلا ہوتا ہے۔‘

ڈاکٹر پراگو نے انتباہ کیا ہے کہ اِس سے 80لاکھ افراد بھی ہلاک ہوسکتے ہیں۔ اُن کے الفاظ میں: ’جیسا کہ آپ کو علم ہے کہ غیر متعدی بیماری کی وبا میں تمباکو نوشی کا تناسب سب سے زیادہ ہے، جِن میں ہارٹ اٹیک، فالج اور سرطان وغیرہ شامل ہیں۔ یہ کل اموات 13فی صد بنتی ہیں۔‘

ڈبلیو ایچ او کا یہ بھی کہنا ہے کہ لوگ جیسے جیسے تمباکو نوشی کو ترک کر رہے ہیں تمباکو کی صنعت لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے زبردست مہم چلا رہی ہے، اور یہ خاص طور سے غریب ملکوں کے نوجوانوں اور خواتین کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے حکام کا کہنا ہے کہ انسداد تمباکو نوشی کے سلسلے میں سب سے مؤثر کارروائی یہ ہے کہ تمباکو پر عائد محصولات کو بڑھا دیا جائے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG