رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: مشرقی ریاستیں برفانی طوفان کی لپیٹ میں


امریکہ کی مشرقی ریاستوں میں ہزاروں دفتروں اور گھروں کو بجلی کی فراہمی منقطع ہو گئی ہے۔ مختلف ائیر لائنز نے تقریبا پانچ ہزار کے قریب پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

امریکہ کی شمال مشرقی ریاستیں جس میں نیویارک اور بوسٹن کے شہر بھی شامل ہیں، شدید برفانی طوفان کی لپیٹ میں ہیں۔

نیویارک کے میئر مائیکل بلوم برگ نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ یہ طوفان اتنی شدید نوعیت کا نہیں جس کی پیش گوئی کی جا رہی تھی اور نیویارک شہر میں اب تک صرف تیس سینٹی میٹر برف پڑی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گاڑی چلانے والوں کو ابھی بھی احتیاط برتنی چاہیئے اور سڑکوں پر نہیں آنا چاہیئے۔ مئیر مائیکل بلوم برگ کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ ہفتے کی شام تک نیویارک شہر کی گلیوں سے برف ہٹانے کا کام مکمل کر لیا جائے گا۔

اس وقت نیویارک شہر سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی برفیلی ہواؤں کی لپیٹ میں ہے۔

ماہر ِ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق برف کے اس طوفان کے ختم ہونے تک نیویارک میں ساٹھ سینٹی میٹر اور بوسٹن میں پچھتر سینٹی میٹر یا اس سے بھی زیادہ برف پڑنے کا امکان ہے۔

امریکہ کی مشرقی ریاستوں میں ہزاروں دفتروں اور گھروں کو بجلی کی فراہمی منقطع ہو گئی ہے۔ مختلف ائیر لائنز نے تقریبا پانچ ہزار کے قریب پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ بوسٹن اور نیویارک میں ٹرین کا نیٹ ورک بھی بند کر دیا گیا ہے۔ لوگوں کو گھروں میں رہنے کی اور گاڑی سڑک پر نہ لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

نیویارک، میساچوسٹس، روڈ آئلنڈ، کنیٹی کٹ اور مین کے گورنرز نے ان ریاستوں میں ’ایمرجنسی‘ نافذ کر دی ہے۔

ریاست نیویارک اور نیوجرسی میں گذشتہ سال اکتوبر میں بھی ایک شدید نوعیت کا طوفان ’سینڈی‘ آیا تھا اور ابھی تک ان ریاستوں میں کہیں کہیں اس طوفان کے اثرات باقی ہیں۔

ماہر ِ موسمیات کے مطابق یہ طوفان 1978 میں امریکہ کی مشرقی ریاستوں میں آنے والے طوفان سے زیادہ شدید ثابت ہو سکتا ہے۔ 1978 کے برفانی طوفان میں بوسٹن میں ستر سینٹی میٹر برف پڑی تھی اور ریاست نیو انگلینڈ میں کئی دن تک کاروبارِ زندگی معطل رہا تھا۔
XS
SM
MD
LG