رسائی کے لنکس

دنیا کی مہنگی ترین خلائی دوربین کی کھربوں میل دور ستارے کی پہلی روشن تصویر


جیمز ویب نے دس لاکھ میل کی دوری سے دو ہزار نوری سال کی مسافت پر واقع ایک ستارے کی انتہائی روشن تصویر بھیجی ہے، جسے زمین پر انسانی آنکھ سے دیکھنا آسان نہیں۔
جیمز ویب نے دس لاکھ میل کی دوری سے دو ہزار نوری سال کی مسافت پر واقع ایک ستارے کی انتہائی روشن تصویر بھیجی ہے، جسے زمین پر انسانی آنکھ سے دیکھنا آسان نہیں۔

دنیا کی سب سے مہنگی خلائی دور بین کی بھیجی ہوئی پہلی تجرباتی تصاویر کی عمدگی اور جزیات کی تفصلات نے سائنس دانوں کو ششدر کر دیا ہے۔ یہ تصاویر دس لاکھ میل یعنی 16 لاکھ کلومیٹر کی دوری سے بھیجی گئی ہیں جن میں ایک بہت دور کی کہکشاں کا ایک روشن ستارہ سورج کی طرح چمکتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

ناسا نے یہ دور بین دسمبر کے آخر میں ایک راکٹ کے ذریعے خلا میں روانہ کی تھی، جسے دس لاکھ میل کی دوری پر ایک ایسے مقام پر نصب کیا جانا تھا جہاں سے ان کہکشاؤں کے بارے میں تصویری معلومات حاصل کی جا سکیں، جن کے متعلق زمین سےجاننا ممکن نہیں ہے۔

اس تحقیق کا مقصد کائنات کی تخلیق کے راز سے پردہ اٹھانا ہے اور یہ جاننا ہے کہ کائنات کب اور کیسے وجود میں آئی۔ وہ کتنی وسیع ہے اور اس کی انتہا کیا ہے۔

سائنس دانوں میں یہ ںظریہ بہت مقبول ہے کہ کائنات کا آغاز ایک بڑے دھماکے سے ہوا تھا جسے سائنس کی زبان میں "بگ بینگ" کہا جاتا ہے۔ بگ بینگ کا نظریہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے اور اربوں کھربوں سال پہلے نہ ستارے تھے اور نہ ہی سیارے ۔ کہکشاؤں تک کا وجود نہیں تھا۔ ان کے بجائے اس لامحدود خلا میں ناقابل تصور حد تک بڑا ایک گولا موجود تھا۔ ایک روز یہ گولا اپنا ہی اندرونی دباؤ، انتہائی بلند درجہ حرارت اور کشش ثقل کی قوت برداشت نہ کر سکا اور پھٹ گیا۔ اس کی مثال کچھ یوں دی جا سکتی ہے کہ آپ ایک غبارے میں پانی بھر لیں اور اسے دبانا شروع کر دیں۔ غبارہ ایک حد تک دباؤ برداشت کرنے کے بعد پھٹ جائے گا اور اس میں بھرا ہوا پانی بکھر جائے گا۔

خلائی دوربین جیمز ویب
خلائی دوربین جیمز ویب

بگ بینگ میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ بڑا گولا پھٹنے کے بعد خلا کی وسعتوں میں بکھر گیا۔ اس کے ٹکڑوں سے کہکشائیں وجود میں آئیں اور ان کے نظام شمسی بنے۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ نئے ستارے وجود میں آ رہے ہیں۔ پرانے شمسی نظام فنا ہو رہے ہیں۔ سائنس دان یہ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ سب کیسے ہو رہا ہے اور اس کہانی کی انتہا کیا ہے۔ زمین سے لاکھوں میل دور ایک انتہائی طاقت ور دوربین نصب کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے۔

ناسا کی خلائی دوربین نے جس ستارے کی تصویر زمین پر بھیجی ہے، وہ اس سے ایک سو گنا زیادہ واضح اور روشن ہے جتنا کہ ایک انسانی آنکھ اسے دیکھ سکتی ہے۔ جس ستارے کی تصویر بھیجی گئی ہے وہ زمین سے دو ہزار نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔

نوری سال کے بارے میں تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ یہ اس فاصلے کو کہتے ہیں جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے۔ روشنی کی رفتار ایک لاکھ 86 ہزار میل فی سیکنڈ ہے۔ گویا ایک سال میں روشنی تقریباً 6 ٹریلین میل کا فاصلہ طے کرتی ہے۔ دو ہزار نوری سال اتنا فاصلہ ہے کہ ہمارے پاس اسے شمار کرنے کی گنتی بھی نہیں ہے۔ مگر یہ ستارہ کائنات کا آخری کنارا نہیں ہے۔ کائنات کا مرکز جہاں بگ بینگ ہوا تھا۔ اس سے بھی ہزاروں لاکھوں نوری سال دور ہے۔

جیمز ویب کے اپنے مقررہ مقام پر پہنچنے کی تصدیق کی بعد زمین مرکز کے سائنس دان خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ 8 جنوری 2022
جیمز ویب کے اپنے مقررہ مقام پر پہنچنے کی تصدیق کی بعد زمین مرکز کے سائنس دان خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ 8 جنوری 2022

کائنات لامحدود اور انسان کا علم محدود ہے۔ سائنس دان اس دور بین سے، جس کا نام جیمز ویب ہے، اپنے علم کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیںِ۔ کائنات کی وسعت کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ ہمارے نظام شمسی کو وجود میں آئے اربوں سال گزر چکے ہیں لیکن اب بھی لاتعداد ستارے ایسے ہیں جن کی روشنی ابھی راستے میں ہے اور ہم تک نہیں پہنچ سکی ہے۔

جیمز ویب اس وقت تک کی دنیا کی سب سے مہنگی دوربین ہے۔ اسے تیار کرنے پر 10 ارب ڈالر لاگت آئی ہے۔ اس کی تیاری میں ناسا کے ساتھ یورپ اور کینیڈا کی خلائی ایجنسیوں نے تعاون کیا۔ دوربین کا بنیادی حصہ 21 فٹ قطر کا آئینہ ہے جسے سونے کی پرتوں سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ آئینہ 18 حصوں پر مشتمل ہے۔ جب اسے ایک راکٹ کے ذریعے خلا میں روانہ کیا گیا تھا تو آئینہ چھتری کی طرح بند تھا۔ منزل مقصود پر پہنچنے کے بعد اس کے 18 حصے چھتری کی طرح کھل کر ایک بڑے آئینے میں ڈھل گئے۔ آئینہ اجرام فلکی کا روشن اور چمکدار عکس حاصل کرتا ہے جسے دوربین کا عدسہ ڈیجیٹل شکل میں ڈھال کر زمینی رسد گاہ کو بھیج دیتا ہے۔ زمینی رسد گاہ دوربین کے خودکار نظام کو یہ بتاتی ہے کہ آئینے کو کس چیز پر فوکس کرنا ہے۔

جمیز ویب دوربین کے لیے کام کرنے والے ایک سائنس دان جین ربگی کا کہنا ہے کہ یہ دور بین ہماری نگاہوں سے اوجھل کائنات کی بہت ہی روشن تصویریں پیش کر رہی ہے۔ سائنس دانوں کو توقع ہے کہ اس دور بین کی مدد سے وقت کے پیمانے پر بہت پیچھے جا کر وہ ستاروں اور سیاروں کو تخلیق ہوتا ہوا دیکھ سکیں گے، جب بک بینگ کا واقعہ ہوئے چند لاکھ سال ہی گزرے تھے۔

جمیز ویب سے قبل سائنس دانوں کو زمین کے مدار میں گردش کرنے والی خلائی دوربین ہبل ٹیلی سکوپ پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔ اسے خلا میں بھیجے ہوئے 32 سال گزر چکے ہیں۔ اس کی ٹیکنالوجی پرانی ہو چکی ہے اور اب وہ سائنس دانوں کے لیے زیادہ کارآمد نہیں رہی۔ وہ زمین سے محض 330 میل کی بلندی پر ہے جب کہ جمیز ویب چاند سے بھی لاکھوں میل آگے 10 لاکھ میل کی بلندی پر گردش کر رہی ہے۔

زمین کے مدارمیں 330 میل کی بلندی پر گردش کرنے والی پہلی دوربین ہبل جسے 24 اپریل 1990 میں لانچ کیا گیا تھا۔
زمین کے مدارمیں 330 میل کی بلندی پر گردش کرنے والی پہلی دوربین ہبل جسے 24 اپریل 1990 میں لانچ کیا گیا تھا۔

امریکی ریاست میری لینڈ کے شہر بالٹی مور میں قائم سپیس ٹیلی اسکوپ انسٹی ٹیوٹ کے ایک سائنس دان کلیس پونٹوپیڈن کا کہنا ہے کہ یہ خلائی دوربین درحقیقت ایک ٹائم مشین جیسی ہے کیونکہ روشنی کائنات میں ایک خاص رفتار سے سفر کرتی ہے۔ ہمیں کائنات کی چیزیں اس وقت نظر آتی ہیں جب ان سے خارج ہونے والی روشنی ہم تک پہنچتی ہے۔

سائنس دانوں کو توقع ہے کہ جیمز ویب کے ذریعے وہ اس روشنی کو بھی دیکھ سکیں گے جو ابھی تک نہیں پہنچ سکی۔ اس میں ممکنہ طور پر وہ وقت بھی شامل ہے جب بگ بینگ کے بعد کائنات بننا اور پھیلنا شروع ہوئی تھی۔

  • 16x9 Image

    جمیل اختر

    جمیل اختر وائس آف امریکہ سے گزشتہ دو دہائیوں سے وابستہ ہیں۔ وہ وی او اے اردو ویب پر شائع ہونے والی تحریروں کے مدیر بھی ہیں۔ وہ سائینس، طب، امریکہ میں زندگی کے سماجی اور معاشرتی پہلووں اور عمومی دلچسپی کے موضوعات پر دلچسپ اور عام فہم مضامین تحریر کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG