رسائی کے لنکس

سپیس ایکس نے دس سیٹلایٹ ایک ساتھ خلاء میں پہنچا دیئے


فلوریڈا سے خلائی راکٹ سپیس ایکس لانچ کیا جا رہا ہے۔ راکٹ سے دس سیٹلائٹ ایک ساتھ زمین کے مدار میں بھیجے گئے۔ 14 جنوری 2017

راکٹ بھیجے جانے کے تقریباً دس منٹ کے بعد راکٹ کا پہلا حصہ باقی ماندہ راکٹ سے  کامیابی کے ساتھ الگ ہوکر بحر الکاہل میں اپنے پلیٹ فارم پر اتر گیا۔

خلاء کی تسخیر کے لیے کام کرنے والے ادارے سپیس ایکس نے ہفتے کے روز کیلی فورنیا سے راکٹ بھیجنے کا کامیاب تجربہ کیا۔

گذشتہ سال ستمبر میں ایک ایسا ہی تجربہ اس وقت ناکامی کا شکار ہو گیا تھا جب خلا میں بھیجا جانے والا راکٹ آگ لگنے کے بعد دھماکے سے تباہ ہو گیا ۔

ہفتے کے روز 70 فٹ لمبا راکٹ وینٹن برگ ایئر فورس کے مرکز سے چھوڑا گیا۔راکٹ بھیجنے کا مقصد ابلاغ کے ایک ادارے اریڈیم کمیونیکیشن کے دس سیٹلائٹ خلا میں پہنچانا تھا۔

راکٹ بھیجے جانے کے تقریباً دس منٹ کے بعد راکٹ کا پہلا حصہ باقی ماندہ راکٹ سے کامیابی کے ساتھ الگ ہوکر بحر الکاہل میں اپنے پلیٹ فارم پر اتر گیا۔ اس کا مقصد انہیں دوبارہ استعمال میں لانا ہے۔

سابقہ حادثے کے بارے میں تحقیقات سے معلوم ہوا تھا کہ راکٹ کے اندر ہیلیم گیس کا ایک کنٹینر پھٹ گیا تھا جس کے نتیجے میں دھماکہ ہوا۔ حادثے کے بعد سپیس ایکس نے اپنے راکٹ میں تبدیلیاں کیں ہیں۔

راکٹ پھٹنے سے سپیس ایکس کو 6 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کا نقصان ہوا تھا جب کہ ابلاغ کی ایک اسرائیلی کمپنی کو، جس کے سیٹلائٹ خلاء میں بھیجے جا رہے تھے 20 کروڑ ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔

اس حادثے کے نتیجے میں سپیس ایکس کے امریکی خلا بازوں کو پہلے مرحلے میں خلاء میں اور پھر اس کے بعد مریخ کے سفر کے پروگرام کو بھی نقصان پہنچا تھا ۔

سپیس ایکس اس سال یعنی 2017 میں 27 راکٹ بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

سپس ایکس درجنوں تجارتی صارفین کے ساتھ ساتھ امریکی خلائی ادارے ناساکا سامان اور آلات بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پہنچانے کا کام بھی کرے گا۔

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن ایک سو ارب ڈالر مالیت کی جدید لیبارٹری ہے جو زمین سے 250 میل کی دوری پرزمین کے گرد چکرلگا رہی ہے۔

سپیس ایکس کے اس سال کے منصوبوں میں پہلی بار استعمال شدہ راکٹ کو دوبارہ خلاءمیں بھیجنا اور فلوریڈا میں پچھلے سال ستمبر کے حادثے میں تباہ ہونے والے اپنے لانچ پیڈ کی مرمت شامل ہے۔

آپ کی رائے

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG