رسائی کے لنکس

logo-print

سری لنکا کے صدر نے وزیراعظم کو برطرف کر دیا


سری لنکا کے صدر میتھرا پالا سائرسینا، فائل فوٹو

سری لنکا کے صدر میتھرا پالا سائرسینا کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے قتل کے ایک منصوبے کی وجہ سے وزیر اعظم کو بر طرف کر دیا ہے۔

صدر میتھرا پالا سائرسینا نے اتوار کی رات وزیر اعظم رانیل وکرما سنگھے کی برطرفی کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے قوم سے خطاب کیا اور حکومت کو تحلیل اور پارلیمنٹ کو معطل کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایک مخبر نے پولیس کو بتایا کہ کابینہ کے ایک وزیر, صدر کی ہلاکت کے ایک منصوبےمیں شامل تھے۔

سائریسینا نے اس وزیر کا نام ظاہر نہیں کیا لیکن کہا کہ ان کے پاس وکرما سنگھے کو برطرف کرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں قطعی طور پر کہتا ہوں کہ تقرریاں کلی طور پر آئین کے مطابق اور قانونی ماہرین کے مشورے پر کی گئی تھیں۔ جب تقرریاں ہوئیں اور جب برطرفی پر عمل درآمد ہوا تو آئین کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔ میں ہر اعتبار سے مکمل طور پر یہ الزام مسترد کرتا ہوں کہ جو کچھ ہوا وہ آئین کی کوئی خلاف ورزی تھی۔

سائریسینا نے سابق صدر اور ایک مضبوط شخصیت مہیندرا راجا پاسکے کو نئے وزیر اعظم کے طور پر نامزد کیا اور انہیں ایک نئی حکومت تشکیل دینے کو کہا۔

سیکیورٹی گارڈز کی جانب سے راجہ پاکسے کے حامیوں پر اس وقت فائرنگ کی گئی جب انہوں نے موجودہ برطرف وزیر پٹرولیم کےدفتر میں داخل ہونے کی کوشش کی تو اس دوران ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔

اتوار کے روز صدر کو ایک خط میں پارلیمانی اسپیکر کارو جے اسوریا نے کہا کہ وہ برطرف وکرما سنگھے کو بدستور تسلیم کرتے ہیں اور یہ کہ انہیں ابھی تک پارلیمنٹ کی اکثریت کا اعتماد حاصل ہے۔

وکرما سنگھے کی حکومت کے ارکان نے کہا کہ جمعے کا اقدام تقریبا تختہ الٹنے کے مترادف ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیتھر نوریٹ نے اتوار کے روز ایک بیان جاری کیا جس میں تمام فریقوں پر تشدد سے احتراز کرنے اور مسٹر سائریسنا سے فوری طور پر پارلیمنٹ کا اجلاس دوبارہ طلب کرنے پر زور دیا گی ۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG