رسائی کے لنکس

سری لنکا میں نافذ ہنگامی حالت ختم کر دی گئی


سری لنکا کے صدر میتھری پالا سری سینا (فائل فوٹو)

سری لنکا کے صدر میتھری پالا سری سینا نے اتوار کو کہا کہ انہوں نے بودھ برادری اور مسلمانوں کے درمیان ہونی والی جھڑپوں کے بعد چھ مارچ کو نافذ کی جانے والی ہنگامی حالت ختم کر دی ہے۔

سری سینا نے ٹوئیڑ پر کہا کہ "عوام کے تحفظ کی صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد میں نےگزشتہ نصف شب سے ہنگامی حالت کا حکم واپس لینے کی ہدایت کی ہے۔"

انہوں نے سری لنکا کے وسطی ضلع کینڈی میں بودھ اور مسلمان برادری کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے بعد فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کو روکنے کے لیے ہنگامی حالت کا نفاذ کیا تھا۔

ان واقعات میں اطلاعات کے مطابق دو افراد ہلاک جبکہ مسلمانوں کے مکانات اور دکانوں اور 20 مساجد کو نقصان پہنچا۔

گزشتہ ایک سال سے دونوں مذہبی برادریوں کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہورہا تھا جس میں بعض سخت گر بودھ گروپ مسلمانوں پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو ان کا مذہب اختیار کرنے پر مجبور کرنے کے ساتھ ساتھ بودھ آثار قدیمہ کو جان بوجھ کو تباہ کر رہے ہیں۔

بعض بودھ قوم پرستوں نے میانمار سے آنے والے روہنگیا پناہ گزیں مسلمانوں کی سری لنکا میں موجودگی پر بھی احتجاج کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG