رسائی کے لنکس

بھارتی کشمیر: چھ مسلمان عسکریت پسند اور بھارتی فضائیہ کا کمانڈو ہلاک

  • یوسف جمیل

پارمورہ میں ہلاک ہونے والے نوجوان مغیث کے جنازے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت

عہدیداروں کے مطابق جھڑپ دارالحکومت سرینگر سے 35 کلو میٹر شمال میں واقع حاجن علاقے   میں سنیچر کی دوپہر سے ہورہی ہے

بھارتی فوج کے ترجمان کرنل راجیش کالیہ نے جھڑپ کے دوران چھ عسکریت پسندوں اور بھارتی فضائیہ کے ایک کمانڈو کے ہلاک اور ایک بھارتی فوجی کے زخمی ہوجانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حفاظتی دستوں نے علاقے کو وہاں عسکریت پسندوں کی ایک بڑی جمعیت کے موجو د ہونے کی مصدقہ اطلاع ملنے پر گھیرے میں لے لیا تھا۔

ترجمان کے مطابق حفاظتی دستوں نے جونہی عسکریت پسندوں کی کمین گاہ کی طرف پیش قدمی کی، اُن پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی گئی اور اس کے ساتھ ہی طرفین کے درمیان جھڑپ شروع ہوگئی جو اب بھی جاری ہے۔

حاجن کے علاقے میں حال ہی میں پیش آئی اسی طرح کی ایک جھڑپ کے دوران بھارتی فضائیہ کے دو کمانڈو اور دو عسکریت پسند ہلاک ہوگئے تھے۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے پولیس سربراہ شیش پال وید نے دعویٰ کیاہے کہ مارے گئے چھ کے چھ عسکریت پسندوں کا تعلق لشکرِ طیبہ سے تھا اور وہ پاکستانی شہری تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان میں سے ایک جس کی شناخت اوید کے طور پر کی گئی ذاکررحمٰن مّکی کا بیٹا اور ذکی الرحمن لکهوی کا بھتیجا ہے۔ لکھوی لشکرِ طیبہ کے ایک اہم کمانڈر ہیں اور 2008 میں ممبئی میں پیش آئے دہشت گرد حملوں کے سلسلے میں بھارت میں مطلوب ہیں۔ پولیس سربراہ نے عسکریت پسندوں کی ہلاکت کو مقامی پولیس، بھارتی فوج اور وفاقی پولیس فورس سی آر پی ایف کی ایک بہت بڑی کامیابی قرار دیدیا جنہوں نے ملکر حاجن کے ژندر گیر گاؤں میں فوجی آپریشن شروع کیا تھا

اس دوران سنیچر کو مسلح پولیس اور نیم فوجی دستوں نے سرینگر کے بیشتر علاقوں میں کرفیو جیسی پابندیا ں عائد کیں۔ پورے ضلع سرینگر میں تعلیمی ادارے بند رہے، ریل سروسز معطل رہیں اور انٹرنیٹ سروسز کو بھی جزوی طور پر بند رکھا گیاجبکہ استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی جماعتوں کے قائدین کو اُن کے گھروں میں نظر بند کردیا گیاہے یا پھر پولیس انہیں پکڑ کر لے گئی۔ عہدیداروں کے مطابق یہ اقدامات حفظِ ماتقدم کے طور پر اُٹھائے گئے۔

پندہ لاکھ سے زائد آبادی والے سرینگر میں جمعہ کی شام سے کشیدگی کا ماحول ہے اور نوجوانوں میں ایک بار پھر غم و غصہ پھیل گیا ہے۔

یہ صورتِ حال ایک عسکری کمانڈر مغیث احمد میر کی ہلاکت کے بعد پیش آئی۔

مغیث جو عسکری تنظیم تحریک المجاہدین کا ایک اہم کمانڈر تھا اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ ایک کار میں کہیں جارہا تھا کہ سرینگر کے مضافات میں واقع گلاب باغ علاقے میں پولیس کی ایک جمعیت نے اسے رُکنے کا اشارہ کیا۔ لیکن کار میں سوار افراد نے جوابا" گولی چلادی۔ ایک پولیس سب انسپکٹر عمران ٹاک ہلاک اور اُن کا ایک ساتھی زخمی ہوگیا۔ پولیس کی جوابی فائرنگ میں کار میں سوار ایک شخص شدید زخمی ہوگیا اور بعد میں چل بسا۔ شام کو جب اُس کی لاش آبائی علاقے پارمپورہ پہنچی تو پتہ چلا کہ مارا گیا نوجوان عسکری کمانڈر مغیث میر ہے۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس منیر احمد خان نے عسکری کمانڈر کے گلاب باغ میں پیش آئے واقعے میں ہلاک ہوجانے کی تصدیق کردی۔

سنیچر کو ہزاروں لوگوں نے عسکری کمانڈر کی تدفین میں حصہ لیا۔ اُس کی میت کے اوُپر داعش کا پرچم ڈالا گیا تھا۔ اس موقعے پر بھارت کے خلاف اور آزادی کے مطالبے کے حق میں نعرے لگائے گئے۔

تدفین کے فوراً بعد مشتعل نوجوانوں اور علاقے میں تعینات حفاظتی دستوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں جو آخری اطلاع آنے تک جاری تھیں۔

عسکری کمانڈر کی ہلاکت ایک ایسے دن ہوئی تھی جب نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے ایک نوجوان فٹبال کِھلاڑی ماجد ارشاد خان نے صرف نو دن پہلے عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہونے کے بعد ہتھیار ڈال کر خود کو بھارتی فوج کے حوالے کردیا۔

بیس سالہ ماجد نے کالعدم لشکرِ طیبہ میں شامل ہونے کا اعلان سماجی ویب سائٹ فیس بُک پر کیا تھا۔ فیس بک اور دوسری سماجی سائٹس پر اُس کی ایک ایسی تصویر وائرل ہوگئی تھی جس میں اسے ایک اے کے 47 بندوق کے ساتھ دیکھا جاسکتا تھا۔

لیکن اُس کا یہ فیصلہ اُس کے والدین پر شا ق گزرا۔ اُس کی پچاس سالہ والدہ عائشہ بیگم نے کھانا پینا چھوڑ دیا جبکہ اُس کے والد پر اُس وقت دل کا ہلکا دورہ پڑا تھاجب یہ خبر آئی کہ ماجد عسکریت پسندوں کی اُس جمعیت میں شامل ہے جو جنوبی ضلع کلگام کے کُنڈ نامی گاؤں میں بھارتی حفاظتی دستوں کی طرف سے ایک آپریشن شروع کئے جانے کے بعد وہاں پھنس گئی ہے۔

اس کے ساتھ ہی ماجد کے والدین اور دوستوں نے سوشل میڈیا کا سہارا لیکر اس سے بندوق کر خیر باد کہہ کر گھر لوٹنے کے لئے اپیل جاری کردی ۔ ماجد نے اس پر لبیک کہتے ہوئے جمعرات کی رات خود کو فوج کے حوالے کردیا۔ بھارتی فوج کے میجر جنرل بی ایس راجو نے اسے ایک جرات مندانہ قدم قرار دیدیا اور کہا " میں ماجد کی ستائش کرتا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ وہ بہت جلد دوبارہ معمول کی زندگی گزارنا شروع کردے گا"۔

صوبائی وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ماجد کا فیصلہ اُس کی ماں کی ممتا کی جیت ہے۔ اُس کے59 سالہ والد ارشاد احمد نے کہا – "مجھے نئی زندگی مل گئی ہے۔ میں اب ٹھیک ہوگیا ہوں اور دوبارہ چل پھر سکتا ہوں"۔

لشکر طیبہ کے ترجمان ڈاکٹر عبد اللہ غزنوی نے کہا کہ ماجد اپنی مرضی سے اس میں شامل ہوگیا تھا اور اُسے گھر لوٹنے کی اجازت اُس کے والدین کی اس اپیل کے بعد دی گئی کہ وہ ان کی اور اپنی دو بہنوں کی دیکھ بال کرنے والا واحد سہارا ہے۔ ترجمان نے کہا " لشکرِ طیبہ نے کبھی تشدد اور بربریت کو ہوا نہیں دی۔ تازہ واقعہ (ماجد کو گھر لوٹنے کی اجازت دینا) اس کا بیّن ثبوت ہے"

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG