رسائی کے لنکس

بھارتی کشمیر میں مقبول بٹ کی برسی پر ہڑتال اور پرتشدد مظاہرے


سری نگر میں مظاہرین کو منشتر کرنھے کے لیے پولیس آنسو گیس کا استعمال کر رہی ہے۔ فائل فوٹو

جمعہ کو پولیس نے اِن جماعتوں کے ایک اِتحاد کی طرف سے سرینگر میں واقع اقوامِ متحدہ کے فوجی مُبصرین برائے بھارت و پاکستان کے گرمائی صدردفاتر تک مارچ کرنے کی کوشش ناکام بنادی۔

یوسف جمیل

قوم پرست لیڈر اور جموں کشمیر قومی محاذِ آزادی کے ایک بانی محمد مقبول بٹ کی 33 ویں برسی پر سنیچر کو وادیءکشمیر میں عام ہڑتال کے دوراں چند علاقوں میں مسلمان مظاہرین اور حفاظتی دستوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جبکہ گرمائی دارالحکومت سرینگر کے پُرانے حصے میں تین دِن پہلے نافذ حفاظتی پابندیاں جاری رہیں۔

سرحدی ضلع کپوارہ میں واقع مقبول بٹ کے آبائی گاؤں ترہگام میں جمعہ کی شام کو ایک مشعل بَردار جلوس نکالا گیا اور سنیچر کی صبح مقامی لوگوں اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے کارکنوں نے سڑکوں پر آکر مظاہرے کئے اور یہ مُطالبہ دہرایا کہ بٹ کی باقیات کو اُن کے اہلِ خانہ کو لوٹایا جائے تاکہ ان کی آبائی وطن میں مُناسب تدفین کی جاسکے۔ بڑھتے ہوئے تناؤ کے پیش نظر پولیس نے علاقے میں کرفیو جیسی سخت پابندیاں لگا دیں۔

مقبول بٹ کو دِلی کی تہاڑ جیل میں 11 فروری 1984 کو پھانسی دی گئی تھی اور وہیں اُنہیں سپردِ خاک کیا گیا۔

اُن پر کشمیر میں 1960 کی دہائی کے وسط میں ایک بھارتی انٹیلی جنس افسر امر چند کو قتل کرنے کے مقدمے میں مجرم قرار دیکر مقامی جج نیل کنٹھ گنجو نے موت کی سزا سُنائی تھی۔ اِس جج کو جے کے ایل ایف کے جنگجوؤں نے نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں 1989 میں مُسلح جدوجہد کے آغاز پر سرینگر کے ایک بھرے بازار میں گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

سرینگر کے عید گاہ مزارِ شہداء میں کھودی گئی پہلی قبر کو مقبول بٹ کی باقیات کے لئے خالی رکھا گیا ہے- استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی جماعتیں مقبول بٹ اور بھارتی پارلیمان پر پندرہ برس پہلے ہوئے حملے میں مجرم قرار دیئے گئے کشمیری نوجوان محمد افضل گورو کی باقیات لوٹانے کے مُطالبے کی تائید کرتی ہیں۔ افضل گورو کو تہاڑ جیل میں ہی 9 فروری 2013 کو تختئہ دار پر لٹکایا گیا تھا اور وہیں دفنایا گیا۔

جمعہ کو پولیس نے اِن جماعتوں کے ایک اِتحاد کی طرف سے سرینگر میں واقع اقوامِ متحدہ کے فوجی مُبصرین برائے بھارت و پاکستان کے گرمائی صدردفاتر تک مارچ کرنے کی کوشش ناکام بنادی۔

اِتحاد نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ شہر کے تاریخی لال چوک میں جمع ہوجائیں جہاں سے ایک جلوس کی صورت میں گپکار روڑ پر واقع فوجی مبصرین کے صدر دفاتر پر جاکر مبصرین کو ایک یادداشت پیش کی جائے گی جس میں مقبول بٹ اور افضل گورو کی باقیات کولوٹانے اور کشمیر کے دونوں حصوں میں رائے شماری کرانے کا مُطالبہ کیا جائے گا۔

پولیس نے اس موقع پر جے کے ایل ایف کے سربراہ محمد یاسین ملک کر گرفتار کرکے سرینگر کی مرکزی جیل مُنتقل کردیا۔

مقبول بٹ اور افضل گورو کی برسیوں کے موقع پر پولیس نے بیشتر آزادی پسند لیڈروں اور سرکردہ کارکنوں کو اُن کے گھروں میں نظربند کردیا تھا۔ تاہم میرواعظ عمر فاروق کی خانہ نظر بندی سنیچر کو اُس وقت ختم کی گئی جب یہ خبر آئی وہ ایک بیٹے کے باپ بن گئے ہیں۔ میرواعظ نے اِس کی تصدیق کرتے ہوئے اس نامہ نگار کو بتایا اُنہیں شہر کے اُس اسپتال تک جانے کی اِجازت دی گئی جہاں اُن کی اہلیہ شیبا مسعودی نے جو امریکہ میں پیدا ہوئیں اور پلی بڑھیں اپنی تیسری اولاد کو جنم دیا۔

اِن کے پہلے دو بیٹیاں آٹھ سالہ مریم اور چھہ سالہ زینب ہیں۔ میرواعظ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کو اُن کا اپنے بیٹے کا نام یوسف یا اِبراہیم رکھنے کا اِرادہ ہے۔

آپ کی رائے

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG