رسائی کے لنکس

logo-print

سری لنکا: دھماکوں میں 290 افراد ہلاک، تحقیقات شروع


سری لنکا میں ایسٹر کے موقع پر گرجا گھروں اور ہوٹلوں میں ہونے والے متعدد دھماکوں میں کم سے کم 290 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور 450 سے زائد افراد زخمی ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں 30 غیر ملکی بھی شامل ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ دھماکوں کی تحقیقات میں سات مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

سری لنکا میں دھماکوں کے بعد عائد کرفیو ختم کر دیا گیا ہے لیکن جعلی خبروں اور افواہوں کی روک تھام کے لیے سوشل میڈیا اور پیغام رسانی کی موبائل اپلیکشنز تاحال بند ہیں۔

سری لنکا میں پیر کو سکول بند رہیں گے جب کہ عوام کو غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نہ نکلنے کی تاکید کی گئی ہے۔

یہ دھماکے دارالحکومت کولمبو سمیت ملک کے مختلف حصوں میں ہوئے ہیں۔

حکام کے مطابق دھماکے گرجا گھروں میں اس وقت ہوئے جب ایسٹر کی دعائیہ تقریبات جاری تھیں۔

مقامی وقت کے مطابق تقریباً 8:45 پر چھ دھماکے ہوئے اور بظاہر منظم انداز میں ہونے والے دھماکے زیادہ ہلاکتوں کا سبب بنے جب کہ دو مزید دھماکے چند گھنٹوں کے بعد ہوئے۔

خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ تین گرجا گھروں اور تین ہوٹلز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر نامہ نگاروں کو بتایا کہ شبہ ہے کہ ان حملوں میں دو حملے خودکش حملہ آوروں نے کیے ہیں۔

دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی اکثریت عبادت کے لیے آنے والے افراد اور ہوٹل میں مقیم مہمانوں کی ہے۔

حکام کے مطابق ان دھماکوں میں تقریباً 30 غیر ملکی افراد ہلاک ہوئے ہیں جن کا تعلق امریکہ برطانیہ اور چین سمیت دیگر ممالک سے ہے۔

سری لنکا میں ایک دہائی قبل خانہ جنگی ختم ہونے کے بعد یہ مہلک ترین حملے ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ایک تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دھماکے کی شدت کے باعث ایک چرچ کی چھت ہی گر گئی۔

سری لنکا کے وزیر اعظم رانیل وکرما سنگھے نے دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے سفاکانہ اقدام قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں پوری قوم کو متحد رہنے کی ضرورت ہے۔

پولیس حکام کے مطابق نشانہ بننے والے دو ہوٹل اور ایک چرچ کولمبو میں واقع ہیں جبکہ ایک چرچ کو کولمبو کے شمال میں نیگاموبو میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

پہلا دھماکہ کولمبو میں سینٹ اینٹنی چرچ جبکہ کولمبو کے نواح میں واقع سینٹ سبیسن چرچ میں ہوا۔

حکام کے مطابق دھماکوں کے بعد ان مقامات پر تلاش کا کام جاری ہے جبکہ تاحال واقعے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی۔

ملک کے صدر کا کہنا ہے کہ پولیس، خصوصی ٹاسک فورس اور فوج ان حملوں کی تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ شدت پسندوں کے ان حملوں کا مقصد اور ایجنڈے کا پتہ لگ سکے۔

سری لنکا کے وزیر دفاع نے حملوں کا الزام شدت پسندوں پر عائد کرتے ہوئے اسے ’بدقسمت دہشت گرد حملہ‘ قرار دیا ہے۔

عالمی رہنماؤں کی مذمت

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان اور بھارت کے وزرا اعظم سمیت عالمی رہنماؤں نے سری لنکا دھماکوں کی مذمت کی ہے۔

اپنے ٹویٹر پیغام میں امریکی صدر کا کہنا ہے کہ امریکہ ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت کرتا ہے۔ ہم سری لنکن حکام کی ہر ممکن مدد کے لئے تیار ہیں۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے سری لنکا میں ہونے والے دھماکوں کی مذمت کی ہے۔ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں عمران خان کا کہنا ہے کہ دکھ کی اس گھڑی میں پاکستان اپنے سری لنکن بھائیوں کے ساتھ ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس وحشیانہ فعل کی خطے میں کوئی گنجائش نہیں۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر سری لنکن حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے بھی سری لنکا میں ہونے والے دھماکوں کی مذمت کی ہے۔ اشرف غنی کا کہنا ہے کہ افغانستان کی حکومت اور عوام کی تمام تر ہمدردیاں سری لنکن حکومت اور عوام کے ساتھ ہیں۔

دھماکوں میں چار پاکستانی زخمی ہوئے

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سری لنکا کے وزیر اعظم رانیل وکرما سنگھے کو ٹیلی فون کر کے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے سری لنکن حکومت کو ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق دھماکوں میں چار پاکستانی شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ملی ہیں جنہیں طبی امداد کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG