رسائی کے لنکس

بھارتی کشمیر میں ساڑھے چار ہزار نوجوانوں کو عام معافى دینے کا اعلان


سری نگر میں ایک مظاہرے کے دوران نوجوان سیکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کر رہے ہیں۔ اپریل 2017

سری نگر میں جاری ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ نے متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ 2015 اور 2017 کے دوران پتھراؤ کے واقعات میں ملوث تمام افراد کے معاملات کو اس سلسلے میں پہلے ہی قائم کی گئی کمیٹی کی سفارشات کے تحت دس دن کے اندر نمٹا یا جائے۔

یوسف جمیل

نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت نے ساڑھے چار ہزار سے زائد ایسے نوجوانوں کو عام معافى دیتے ہوئے اُن کے خلاف دائر مقدمات واپس لینے کا اعلان کردیا ہے جن پر شورش کے دوران حفاظتی دستوں پر پہلی مرتبہ پتھراؤ کرنے کا الزام ہے۔

صوبائی وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعرات کے روز اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ میں پتھراؤ کا پہلی مرتبہ ارتکاب کرنے والوں کے خلاف دائر مقدمات واپس لینے کا عمل شروع کرتے ہوئے انتہائی اطمینان محسوس کررہی ہوں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی حکومت نے اس عمل کا آغاز مئی 2016 میں کیا تھا، لیکن ریاست میں اسی دوران بدامنی کی ایک نئی لہر آنے کی وجہ سے یہ عمل رک گیا۔

واضح رہے بھارتی حفاظتی دستوں نے 8 جولائی 2016 کو مقبول عسکری کمانڈر برہان مظفر وانی کو ہلاک کیا تھا، جس کے ساتھ ہی نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں پرتشدد مظاہروں کا ایک نیا سلسلہ چل پڑا جو چھ ماہ تک جاری رہا اور اس دوران 80 سے زیادہ شہری ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔

سری نگر میں جاری ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ نے متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ 2015 اور 2017 کے دوران پتھراؤ کے واقعات میں ملوث تمام افراد کے معاملات کو اس سلسلے میں پہلے ہی قائم کی گئی کمیٹی کی سفارشات کے تحت دس دن کے اندر نمٹا یا جائے۔

اس سے پہلے نئی دہلی سے یہ اطلاع ملی تھی کہ بھارت کی وزارتِ داخلہ نے ریاستی حکومت کی طرف سے پیش کی گئی تجویز سے اتفاق کرلیا ہے۔

بھارت کی وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت دونوں نے یہ توقع ظاہر کی ہے کہ پہلی مرتبہ پتھراؤ کا ارتکاب کرنے والوں کو عام معافى دینے سے ریاست میں امن بحالی کی کوششوں میں مدد ملے گی۔

نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت کے ترجمانِ اعلیٰ اور وزیرِ تعمیرات نعیم اختر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ عام معافى دینے اور مقدمات واپس لینے کا مقصد نوجوانوں کے مستقبل کو تاریک ہونے سے بچانا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تشدد میں ملوث باقی افراد کو بھی انہیں درپیش قانونی اور دوسرے مسائل سے نجات دلانے پر غور کررہی ہے۔

ایک اور خبر کے مطابق سری نگر کے چار ایسے نو عمر لڑکوں کے والدین نے نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کو ایک خط لکھ کر انہیں انصاف دلانے میں مدد دینے کی استدعا کی ہے جنہیں حفاظتی دستوں نے 2010 کے دوران ہلاک گیا تھا۔

خط میں ملالہ کی توجہ نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے اُس وقت کے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ کی ایک ٹویٹ کی طرف مبذول کروا ئی گئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے آکسفورڈ کے سینٹ انٹونی کالج کے اپنے حالیہ دورے کے دوران وہاں موجود ملالہ یوسف زئی سے ان کے ساتھ تصویر کھنچوانے کی درخواست کی تھی۔ ہلاک کیے گئے وامق فاروق، زاہد فاروق، طفیل متو اور عمر قیوم کے والدین نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ انہیں اس خبر کے متعلق جان کر دکھ پہنچا ہے کیونکہ نہ صرف ان کے جگر کے ٹکڑوں کو بلکہ 120 کشمیری نوجوانوں کو ایک ایسے وقت میں ہلاک کیا گیا تھا جب عمر عبد اللہ وزیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے حفاظتی دستوں کی مشترکہ کمانڈ کے سربراہ تھے۔

خط میں ملالہ کے کشمیر پر دیئے گئے ایک حالیہ بیان کا ذکر کرتے ہوئے اُمید ظاہر کی گئی ہے کہ وہ خط میں درج الفاظ کے مطابق مظلوم کشمیریوں کی آواز اقوامِ عالم تک پہنچانے اور انہیں انصاف دلانے میں اپنا کردار ادا کرتی رہیں گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG