رسائی کے لنکس

logo-print

طاقتور ال نینو : دنیا بھر کے موسموں کو متاثر کر سکتا ہے


ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ یہ 1950ء کے ریکارڈ یافتہ درجہ حرارت کے بعد سے یہ اب تک کے طاقتور ترین ال نینو میں سے ایک ہوسکتا ہے، جو شمالی نصف کرہ میں موسم سرما میں جاری رہے گا۔

برطانوی ماہرین موسمیات نے پیشن گوئی کی ہے کہ دنیا کو ایک بار پھر سے طاقتور ال نینو کا سامنا ہے، جو دنیا بھر کے موسم کے نظاموں پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق ال نینو اس وقت واقع ہوتا ہے، جب بحر الکاہل میں پانی غیر معمولی گرم ہو جاتا ہے اور دنیا بھر میں موسمی بگاڑ کا باعث بنتا ہے، جس کے نتیجے میں خشک سالی اور سیلاب آ سکتے ہیں۔

ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ یہ 1950ء کے ریکارڈ یافتہ درجہ حرارت کے بعد سے یہ اب تک کے طاقتور ترین ال نینو میں سے ایک ہو سکتا ہے ،جو شمالی نصف کرہ میں موسم سرما میں جاری رہے گا۔

امریکہ کی قومی بحریاتی اور موسمیاتی ایڈمنسٹریشن )این او اے اے( اور برطانوی محکمہ موسمیات کے مطابق یہ ال نینو ایک بڑا واقعہ ہو سکتا ہے، آخری بار ال نینو کا زوردار اثر 1997ء میں دیکھا گیا تھا۔

امریکی سائنس دانوں نے اپریل میں بتایا تھا کہ ال نینو آ چکا ہے لیکن اسے کمزور بتایا گیا تھا تاہم ماہرین کا اندازہ تھا کہ یہ ستمبر کے بعد زور پکڑے گا۔

ماہرین موسمیات کے مطابق مشرقی استوائی بحر الکاہل کی سطح کے پانی کے درجہ حرارت کے نمونوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ سمندر کی سطح کے کچھ علاقوں میں درجہ حرارت طویل مدتی درجہ حرارت کی اوسط سے دو سیلیس اوپر ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ موجودہ ال نینو زور دار ہو گا۔

ال نینو ایک قدرتی عمل ہے، ال نینو جنوبی تغیر یا آب و ہوا کا ایک قرینہ ہے، جس میں سمندری سطح کی گہرائی میں درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے اسے بحر الکاہل کا گرم ہونا بھی کہا جاتا ہے۔

یہ رجحان اندازاً دو سے سات برس میں بحر الکاہل میں پانی کا بہاؤ بدلنے سے واقع ہوتا ہے اور چھ سے اٹھارہ ماہ کے درمیان رہتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ال نینو ایک موسمیاتی کیفیت ہے جس میں سمندر کا درجہ حرارت بڑھنے کے نتیجے میں ایشیا اور مشرقی افریقہ میں شدید گرمی کی لہر اور جنوبی امریکہ میں بھاری بارشیں اور طوفان آتے ہیں۔

2009ء میں ال نینو کے سال میں بھارت میں بدترین خشک سالی آئی تھی جس نے آسٹریلیا میں گندم کے کھیتوں کو مسمار کر دیا تھا اور ایشیا میں فصلوں کو تباہ کردیا تھا جبکہ دنیا بھر میں خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا تاہم ماہرین نے رواں برس پھر سے ال نینو کے شدید موسمی اثرات کی پیشن گوئی کی ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق ال نینو قدرتی عمل کا سرد مرحلہ ہے، جبکہ ال نینو کو گرم مرحلہ کہا جاتا ہے جنھیں ماہرین ماحولیاتی تپش کے ساتھ منسلک کرتے ہیں۔

عام طور پر موسمیاتی ماہرین ال نینو کے سال میں جنوب مشرقی ایشیا میں مون سون کمزور پڑنے کی توقع کرتے ہیں، جس میں انڈونیشیا، فلپائن اور آسٹریلیا میں کم مون سون کے ساتھ معمولی سے زیادہ خشکی کے نتیجے میں قحط کا خطرہ بڑھتا ہے۔

بحر الکاہل میں مشرقی حصے میں گرم پانی طوفانوں کے نظام کو فروغ دے گا جس کے نتیجے میں سمندری طوفانوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ معمول کے سمندری طوفانوں کے نظام میں بھی کافی تبدیلی ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق پیسفک کے علاقے میں موسم کی تبدیلی شاید ہی حیرت انگیز ہو لیکن دنیا کے ہر براعظم کو ال نینو متاثر کر سکتا ہے۔

دریں اثناء امریکہ میں برفانی طوفان کے علاوہ جنوبی ریاستیں پیرو اور ایکواڈور کے موسم کے نظام میں گرمی میں اضافہ دیکھا جا سکتا ہے جیسا کہ صحرائے ایٹاکاما جسے زمین پر خشک ترین علاقہ تصور کیا جاتا ہے وہاں اَسی برسوں میں بھاری بارشوں کی وجہ سے بیس سے زائد اموات واقع ہوئی ہیں۔

شمالی امریکہ میں جہاں جنوبی اور مغربی حصہ بدترین خشک سالی کا سامنا کر رہا ہے وہاں ال نینو بارشوں کا فائدہ لا سکتا ہے تاہم اگر یہ 1997/98ء کی طرح شدید ہوا تو بارشوں کی وجہ سے سیلاب اور اموات کا خطرہ بھی ہے۔

آسٹریلیا میں رواں برس ملک کے کئی حصوں میں موسم گرما غیر معمولی رہا ہے،جس میں درجہ حرارت باقاعدگی سے 40 سینٹی گریڈ سے زیادہ تھا۔

افریقہ میں ال نینو خشک سالی کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے اور خشک سالی زمبابوے، بوٹسوانا اور جنوبی افریقہ میں غذائی بحران کا باعث بن سکتی ہے۔

ماہرین موسمیات کی پیشن گوئی کے مطابق یورپ بھی ال نینو کے اثرات سے محفوظ نہیں ہے جہاں اس سال بھی پچھلے برس کی طرح موسم سرما شدید اور خشک ہو سکتا ہے، جو موسم بہار تک جاری رہ سکتا ہے۔

برطانوی محکمہ موسمیات کی ایک رپورٹ کے مطابق یورپ اور برطانیہ کو شدید موسم سرما کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جہاں اکتوبر کے آغاز سے ایک سرد لہر آنے کی توقع ہے۔

ماہرین کو اندیشہ ہے کہ برطانیہ کی تاریخ میں 1963ء کے بدترین موسم سرما کو دوبارہ دیکھا جا سکتا ہے جب جنوری کے مہینے میں درجہ حرارت منفی بیس ڈگری سے نیچے گر گیا تھا اور دریائے ٹیمز منجمد ہو گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG