رسائی کے لنکس

logo-print

ذہنی استعداد اب بڑھائی جائے گی برقی پٹیوں سے


یہ عمل transcranial random noise stimulation یا TRNS کہلاتا ہے۔ اس عمل میں دماغ کے مختلف حصوں کو برقی پیغامات بھیج کر انہیں متحرک کیا جاتا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ اب دماغ میں ان حصوں کو برقی پیغامات بھیج کر ذہنی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے جو حساب کتاب اور جمع تفریق کرتے ہیں؟ ۔۔۔ ہے نا حیران کن بات؟

آکسورڈ یونیورسٹی کے تحقیق دانوں کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق کے نتائج بتاتے ہیں کہ انسانی ذہن کی کارکردگی بڑھانا ممکن ہو گیا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ زمانہ گیا جب لوگوں کو سائنس اور ریاضی جیسے مضامین مشکل لگتے تھے اور وہ انہیں پڑھنے سے ڈرتے تھے۔

اس تحقیق کے لیے اکیاون طالبعلموں کو منتخب کیا۔ سائنسدانوں کے مطابق ابھی یہ تحقیق اور اس کے نتائج ابتدائی درجے کے ہیں اور اس ضمن میں ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے۔ لیکن سائنسدانوں کو امید ہے کہ یہ نتائج مستقبل میں طالبعلموں کی ذہنی استعداد بڑھانے اور انہیں یادداشت سے متعلق بیماریوں جیسا کہ الزائمرز اور ڈیمنشیاء کے اثرات سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

جن سائنسدانوں نے اس پروجیکٹ پر کام کیا ان کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کے نتائج حیران کن تھے۔ ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں ان طالبعلموں کی، جن کے دماغوں کے خاص حصوں کو برقی پیغامات بھیجے گئے، کارکردگی میں بہتری نوٹ کی گئی۔

رائے کوہن کادوش بھی اس تحقیق کا حصہ تھے اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے منسلک ہیں۔ رائے کوہن کادوش کہتے ہیں کہ، ’صرف پانچ دنوں میں دماغ کے مختلف حصوں کو برقی پیغامات بھیج کر انہیں متحرک کرنے سے ہمیں بہترین نتائج حاصل ہوئے۔ ان برقی پیغامات سے انسانی دماغ کو کوئی تکلیف نہیں محسوس ہوتی۔‘ رائے کوہن کادوش کا مزید کہنا تھا کہ جن طالبعلموں پر یہ تجربہ کیا گیا اس کے چھ ماہ بعد تک ان کی کارکردگی بہترین رہی۔

یہ عمل transcranial random noise stimulation یا TRNS کہلاتا ہے۔ اس عمل میں دماغ کے مختلف حصوں کو برقی پیغامات بھیج کر انہیں متحرک کیا جاتا ہے۔ دماغ کے جس حصے کو متحرک کیا جاتا ہے وہ یادداشت سے متعلق ہے۔ سر کے اوپر electrodes یا برقی پٹیاں رکھی جاتی ہیں جو دماغ کے اندر بغیر کسی تکلیف کے پیغام پہنچا کر اسے متحرک کرتے ہیں۔ یہ طریقہ بہت سستا بھی ہے۔

یہ تحقیق اور اس کے نتائج سائنس سے متعلق ایک مجلے Current Biology میں شائع کیے گئے۔ رائے کوہن کادوش کا کہنا ہے کہ ابھی یہ معلوم نہیں کیا جا سکا کہ برقی پٹیاں کس طرح سے دماغ کے مختلف حصوں کو متحرک کرتی ہیں، لیکن نتائج بتاتے ہیں کہ برقی پٹیوں سے دماغ کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG