رسائی کے لنکس

logo-print

کابل: محفلِ میلاد پر حملے کی مذمت، آج ’یومِ سوگ‘ منانے کا اعلان


وزارتِ عوامی صحت کے ترجمان اور خارجہ تعلقات کے سربراہ، ڈاکٹر وحیداللہ مجروح نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دارالحکومت کابل میں علماء کونسل کے اجتماع میں ہونے والے خود کش حملے میں 50 افراد ہلاک، جب کہ 83 زخمی ہوئے ہیں۔

بقول ترجمان، حملے میں زخمی ہونے والوں میں سے 20 کی حالت تشویشناک ہے۔ ادھر، ایمرجنسی اسپتال نے بتایا ہے کہ جو 40 زخمی اسپتال لائے گئے، اُن میں سے سات پہلے ہی دم توڑ چکے تھے۔

افغان صدر اشرف غنی نے بم حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’یہ اسلامی اقدار اور پیغمبر اسلام کے عقیدتمندوں پر حملہ ہے‘‘۔ افغان صدر نے بدھ کو یوم سوگ منانے کا اعلان کیا۔

غنی نے کہا کہ ’’یہ تمام انسانیت کے خلاف حملہ ہے‘‘۔

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے بھی بم حملے کی مذمت کی ہے اور لواحقین سے اظہار تعزیت کیا ہے۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کابل میں ہونے والے دہشت گرد حملے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے "دہشت گردی کے اس غیر انسانی فعل" کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی طرف سے بدھ کو جاری ایک بیان کے مطابق وزیرِ خارجہ نے افغانستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

امریکہ نے کابل میں ایک مذہبی اجتماع پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیتھر نوریٹ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں متاثرہ خاندانوں اور ان کے احباب کے ساتھ گہری ہمددری اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ شرم ناک واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب افغانستان کے عوام پرامن طریقے سے عید میلاد النبی منا رہے تھے۔ افغانستان میں تشدد کی یہ کارروئی مرتکب افراد کی سفاکی اور بزدلی کو ظاہر کرتی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ بدستور افغانستان میں امن اور استحکام کے عہد سے وابستہ ہے اور وہ افغان عوام کے ساتھ کھڑا ہے جو امن اور ہولناک تشدد سے پاک مستقبل چاہتے ہیں۔

طویل مدت سے افغانستان اور امریکہ پاکستان پر طالبان کی سرپرستی کا الزام عائد کرتے رہے ہیں، جس کی قیادت پاکستان میں ہے۔ پاکستان ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ اُس کا کہنا ہے کہ وہ امن کی کوششوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے لیکن گروپ پر اُس کا اثر و رسوخ محدود ہے۔

اس سے قبل موصولہ خبروں کے مطابق، افغانستان کی وزارت داخلہ کے ترجمان نجیب دانش نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا ہے کہ ایک مقامی شادی ہال میں عید میلادالنبی کے موقع پر ہونے والے مذہبی علماء کے اجتماع میں ایک خود کش بمبار نے اپنے آپ کو دھماکے سے اُڑا دیا۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں آج کابل میں ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’ایک جرم‘‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’’اسلامی امارات، افغان عوام اور مذہبی رہنماؤں پر حملوں کی سختی سے مذمت کرتا ہے‘‘۔

بیان میں افغان عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ ’’شیطانی گروہوں کی ظالمانہ چالوں کا راستہ روکنے میں مدد دینے کے لئے آگے بڑھیں اور اپنا فرض ادا کریں‘‘۔

مقامی وقت کے مطابق شام 6:15 بجے ہونے والے اس دھماکے سے کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب واقع یہ شادی ہال لرز اُٹھا اور اس کے متعدد حصے تباہ ہو گئے۔

کسی نے فوری طور پر حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی، لیکن ماضی میں طالبان اور داعش سے منسلک مقامی دھڑے حکومت سے قربت رکھنے والے علما کو ہدف بناتے رہے ہیں۔

کابل پولیس کے سربراہ کے ترجمان، بصیر مجاہد نے کہا ہے کہ ’’بدقسمتی سے ہلاک ہونے والے سارے لوگ مذہبی اسکالر تھے جو پیغمبر اسلام کی محفل میلاد منانے کے لیے جمع تھے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ تقریب کی سکیورٹی کے لیے پولیس کو تعینات نہیں کیا گیا تھا، جس کے باعث بم حملہ آور آسانی کے ساتھ اندر داخل ہوا۔ زیادہ تر شادی ہال سکیورٹی کا بندوبست نجی طور پر کرتے ہیں۔

محمد مزمل شادی ہال کے ویٹر ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ وہ مہمانوں کے لیے پانی لینے کے لیے تقریب کی پچھلی جانب گئے جہاں اُنھوں نے دھماکے کی آواز سنی۔ انھوں نے بتایا کہ ’’سب چیزیں الٹ پلٹ گئی تھیں، دھواں اور دھول پھیلی ہوئی تھی۔ کرسیوں کے گرد بڑی تعداد میں لاشیں پڑی ہوئی تھیں‘‘۔

پولیس نے حملے کے مقام کی جانب جانے والی تمام سڑکیں بند کردی ہیں۔ سینکڑوں لواحقین نے اپنے پیاروں کی حالت کا پتا کرنے کے لیے مقامی اسپتالوں کا رخ کیا، اور فوت و زخمی ہونے والوں کی فہرستیں ٹٹولیں۔

’اُرینس شادی محل‘ نامی اس شادی ہال میں سیاسی اور مذہبی تقریبات کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے۔ اس شادی ہال کے منیجر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نیوز اجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ خود کش بمبار نے یہ دھماکہ اجلاس کے عین وسط میں کیا۔ اس اجتماع میں سیکڑوں مذہبی شخصیات شریک تھیں۔

افغانستان میں گزشتہ سال سے امن و امان کی صورت حال مزید خراب ہو گئی ہے اور حالیہ ہفتوں میں طالبان اور داعش نے کابل اور اس کے گرد و نواح میں اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔

اس سال اگست میں ایک تعلیمی ادارے میں ہونے والے دھماکے میں 34 افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں انگریزی زبان سیکھنے والے کئی طالب علم شامل تھے۔ اس کے علاوہ گزشتہ جون میں بھی کابل پولی ٹیکنک یونیورسٹی کے قریب ایک خیمے میں ہونے والے مذہبی راہنماؤں کے اجتماع میں خود کش حملہ کیا گیا تھا جس میں کم سے کم سات افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG