رسائی کے لنکس

logo-print

بابری مسجد کیس ہر صورت 18 اکتوبر تک نمٹا دیا جائے گا: بھارتی سپریم کورٹ


سپریم کورٹ آف انڈیا۔ (فائل فوٹو)

بھارت کی سپریم کورٹ نے بابری مسجد تنازع ہر صورت 18 اکتوبر تک نمٹانے کا حکم دیتے ہوئے فریقین کو اس سے قبل اپنے دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی 18 نومبر کو ریٹائرمنٹ سے قبل فیصلہ نہ سنایا گیا تو پورا کیس التوا کا شکار ہو جائے گا۔

بھارت کے ذرائع ابلاغ کے مطابق بدھ کو ہونے والی سماعت کے دوران عدالت نے تنازع کے حل کے لیے ثالثی کمیٹی کو مزید وقت دینے کا بھی عندیہ دیا ہے۔

عدالت نے کہا ہے کہ ثالثی کمیٹی فیصلہ محفوظ ہونے تک اپنی رپورٹ دوبارہ پیش کر سکتی ہے۔

چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی قیادت میں پانچ رکنی آئینی بینچ ثالثی کمیٹی کی ناکامی کے بعد گزشتہ ماہ سے روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

مذکورہ بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس ایس اے بوبڈے، ڈی وائی چندر چوڑ، اشوک بھوشن اور ایس عبد النذیر شامل ہیں۔

سولہویں صدی میں تعمیر کی جانے والی بابری مسجد کے بارے میں ہندوؤں کا دعویٰ ہے کہ وہاں ان کے مذہبی رہنما رام جی پیدا ہوئے تھے۔ ہندوؤں کا مؤقف ہے کہ پہلے وہاں مندر تھا جسے مسلمان حکمران ظہیر الدین بابر کے سپہ سالار میر باقی نے منہدم کر کے وہاں مسجد تعمیر کی تھی۔

مسلمان اس دعوے کی تردید اور اسے بے بنیاد قرار دیتے آئے ہیں۔

یاد رہے کہ چھ دسمبر 1992 کو وشو ہندو پریشد کی اپیل پر بھارت کے شہر ایودھیا میں واقع مسجد کے نزدیک ہندوؤں کا ایک بڑا اجتماع ہوا تھا جس نے بابری مسجد منہدم کر دی تھی۔ اس کے بعد وہاں ایک عارضی مندر بنا دیا گیا تھا جس میں آج تک پوجا ہو رہی ہے۔

بابری مسجد۔ فائل فوٹو
بابری مسجد۔ فائل فوٹو

عدالتی سماعت میں کیا کچھ ہوا؟

عدالت میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان بڑے تنازع کی وجہ بننے والے اس اہم کیس کی روزانہ کی بنیاد پر 26 ویں سماعت ہوئی۔

سماعت کے دوران عدالت نے ایک بار پھر معاملہ ثالثی کمیٹی کے ذریعے نمٹانے کی پیش کش کی۔

عدالت نے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ ہر صورت 17 نومبر سے قبل سنا دیا جائے گا۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی 17 نومبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔ عدالت نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اگر اس سے قبل فیصلہ نہ سنایا جا سکا تو پوری عدالتی کارروائی نئے سرے سے شروع کرنا ہو گی۔

چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے ریمارکس دیے کہ ہمیں اس کیس کی سماعت 18 اکتوبر سے قبل مکمل کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لیے ہم ہفتے کو ایک گھنٹہ اضافی سماعت کے لیے بھی تیار ہیں۔

عدالت نے حکم دیا کہ فریقین 18 اکتوبر تک دلائل مکمل کرنے کے لیے شیڈول عدالت میں جمع کروائیں۔ خیال رہے کہ عدالت نے رواں سال مارچ میں بابری مسجد تنازع ثالثی کمیٹی کے سپرد کیا تھا۔

ثالثی کمیٹی میں سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ایف ایم آئی کلیف اللہ کے علاوہ ہندو مذہبی رہنما شری روی شنکر اور ایک سینئر وکیل سری رام پانچو کو بھی شامل کیا گیا تھا۔

ثالثی کمیٹی نے گزشتہ ماہ اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کی تھی۔ تاہم، چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے ریمارکس دیے تھے کہ ثالثی کمیٹی کی رپورٹ نے تنازع کا کوئی حل پیش نہیں کیا۔ ثالثی کمیٹی کے اراکین نے بھی قابل عمل حل پیش کرنے میں ناکامی کا اعتراف کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG