رسائی کے لنکس

logo-print

سوئیڈن کا 80 ہزار پناہ گزینوں کو واپس بھیجنے کا عندیہ


سویڈن میں غیر قانونی تارکین وطن کا ملک میں داخلہ روکنے کے لیے ایک مسافر کا شناختی کارڈ چیک کیا جا رہا ہے۔

وزیر داخلہ ایجمین نے کہا کہ چونکہ لگ بھگ 45 فیصد پناہ کی درخواستیں اس وقت مسترد کی جا رہی ہیں اس لیے سویڈن گزشتہ سال پناہ کے لیے درخواست دینے والے 163,000 افراد میں سے ہزاروں کو واپس بھیج سکتا ہے۔

سویڈن کے وزیر داخلہ اینڈرس ایجمین نے کہا ہے کہ ان کا ملک آنے والے سالوں میں ساٹھ سے اسی ہزار تک پناہ گزینوں کو واپس بھیج سکتا ہے۔

ایجمین نے روزنامہ ’ڈاگنس انڈسٹری‘ کو بتایا کہ چونکہ لگ بھگ 45 فیصد پناہ کی درخواستیں اس وقت مسترد کی جا رہی ہیں اس لیے ہمیں گزشتہ سال پناہ کے لیے درخواست دینے والے 163,000 افراد میں سے ہزاروں کو واپس بھیجنے کے لیے تیار رہنا چاہیئے۔

اخبار نے ایجمین نے حوالے سے کہا کہ ’’میرا خیال ہے کہ ان کی تعداد ساٹھ ہزار تک ہو سکتی ہے مگر اسی ہزار تک بھی ہو سکتی ہے۔‘‘

ان کے ترجمان وکٹر ہرجو نے جمعرات کو اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وزیر نے 2015 میں آنے والے پناہ گزینوں کی درخواستیں منظور ہونے کی موجودہ شرح کی بنیاد پر یہ اعدادوشمار بتائے ہیں۔ ہرجو نے کہا کہ ’’یہ شرح تبدیل بھی ہو سکتی ہے۔‘‘

یاد رہے کہ گزشتہ سال مشرقی وسطیٰ، افریقہ اور افغانستان کے جنگ زدہ علاقوں سے بھاگنے والے افراد دس لاکھ سے زائد افراد یورپ پہنچے تھے۔ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ پہنچے والے پناہ گزینوں کی سب سے بڑی تعداد تھی۔

اتنی بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کے یورپ داخلے سے یورپی ممالک میں بحران کی کیفیت پیدا ہو گئی تھی جس سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں جن میں غیرقانونی تارکین وطن اور ان پناہ گزینوں کی ان کے ملکوں میں واپسی شامل ہیں جن کی پناہ کی درخواستیں منظور نہیں ہوئیں۔

XS
SM
MD
LG