رسائی کے لنکس

logo-print

شام: امریکہ اضافی 34 کروڑ ڈالر امداد فراہم کرے گا


مسٹر اوباما نے 21 اگست کو دمشق کے قریب ہونے والے کیمیائی حملے کے بارے میں شک کرنے والوں پر بھی تنقید کی جو شام کے صدر بشارالاسد کی اس کارستانی پر شک کا اظہار کرتےہیں، جِس کےبارے میں امریکی انٹیلی جنس کا کہنا ہے کہ اِس کے باعث 1400 افراد ہلاک ہوئے

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ شام میں جاری بحران کےنتیجے میں متاثرین کی انسانی بنیادوں پر امداد کے لیے، امریکہ اضافی طو ر پر34 کروڑ ڈالر فراہم کرے گا۔

اُنھوں نے یہ بات نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی راہنماؤں سے خطاب میں کہی۔

مسٹر اوباما نے 21 اگست کو دمشق کے قریب ہونے والے کیمیائی حملے کے بارے میں شک کرنے والوں پر بھی تنقید کی جو شام کے صدر بشار الاسد کی اس کارستانی پر شک کا اظہار کرتےہیں، جِس کےبارے میں امریکی انٹیلی جنس کی رپورٹ ہے کہ اِس میں 1400 افراد ہلاک ہوئے۔

اُن کے الفاظ میں، یہ انسانی شعور کی بے حرمتی، اور اس ادارے کے جواز پر ایک حرف کے مترادف ہے، یہ کہنا کہ یہ حملہ اسد حکومت نے نہیں بلکہ کسی اور نے کرایا ہوگا۔

امریکی صدر نے اپنی طرف سے مسٹر اسد کی حکومت کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکی کا دفاع کرتے ہوئے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ سلامتی کونسل کو ایک سخت قرارداد منظور کرنی چاہیئے جِس کے ذریعے اِس بات کی تصدیق ہو آیا اسد حکومت اپنے وعدے پورے کر رہی ہے۔

اِس سے قبل، منگل ہی کے روز روس کے معاون وزیر خارجہ، سرگئی ریابکوف نے کہا کہ دستاویز میں ایک کلیدی باب نمبر سات کا ذکر درج ہے، جِس میں طاقت کے استعمال یا تعزیرات کی گنجائش نکلتی ہے صرف اُس صورت میں کہ شام کا کوئی فریق روس اور امریکہ کے درمیان ہونے والے کیمیائی ہتھیاروں کے معاہدے کی خلاف ورزی میں ملوث پایا جائے۔

ریابکوف نے کہا کہ کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق اقوام متحدہ کے تفتیش کار بدھ کو شام واپس جائیں گے۔

اقوام متحدہ کی اس ٹیم کی سربراہی اَکی سیل سٹروم کر رہے ہیں، جِس نے اِس ماہ کے اوائل میں شام کی دو ہفتے کی تفتیش مکمل کی۔ تاہم، ٹیم کا زیادہ تر دھیان دمشق کے مضافات میں ہونے والے مہلک حملے کی تفتیش کرنے پر مرکوز رہا۔
XS
SM
MD
LG