رسائی کے لنکس

logo-print

مدافعتی نظام کا ایک حصہ کرونا کے مختلف ویرینٹ کے خلاف تحفظ فراہم کر سکتا ہے: تحقیق


تحقیق کے مطابق جب جسم میں کرونا وائرس کی مختلف قسم داخل ہونے کی وجہ سے مدافعتی نظام کی فرسٹ لائن یعنی 'اینٹی باڈیز' کمزور پڑ جاتی ہیں تو نظام کا دوسرا حصہ یعنی 'ٹ سیل' وائرس کے خلاف متحرک ہو جاتا ہے۔

دنیا بھر میں کرونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ویکسی نیشن کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے اور اس دوران کرونا کی مختلف اقسام بھی سامنے آ رہی ہیں۔

اسی حوالے سے حال ہی میں ایک تحقیق کی گئی ہے جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مدافعتی نظام کا ایک حصہ 'ٹی سیل' کرونا کی مختلف اقسام کے خلاف تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔

امریکی جرنل 'سائنس امیونولوجی' میں کرونا وائرس کے نئے ویرینٹس اور مدافعتی نظام کے ردِ عمل سے متعلق 25 مئی کو ایک تحقیق شائع کی گئی ہے۔

تحقیق کے مطابق جب جسم میں کرونا وائرس کی مختلف قسم داخل ہونے کی وجہ سے مدافعتی نظام کی فرسٹ لائن یعنی 'اینٹی باڈیز' کمزور پڑ جاتی ہیں تو نظام کا دوسرا حصہ یعنی 'ٹی سیل' وائرس کے خلاف متحرک ہو جاتا ہے۔

جب جسم میں کوئی بھی وائرس داخل ہوتا ہے تو انفیکشن سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے سب سے پہلے مدافعتی نظام کی فرسٹ لائن یعنی اینٹی باڈیز متحرک ہو جاتی ہیں اور یہ وائرس کو خلیوں (سیل) میں داخل ہونے سے روکتی ہے۔

ٹی سیل کیا ہیں؟

انسانی جسم میں وائرس کو داخل ہونے اور انفیکشن سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے مدافعتی نظام موجود ہوتا ہے۔

یہ مدافعتی نظام مختلف حصوں سے مل کر بنتا ہے جس کے بنیادی حصوں میں وائٹ بلڈ سیلز اور اینٹی باڈیز بھی شامل ہیں۔

ٹی سیل در اصل انسان کے مدافعتی نظام کا ایک اہم حصہ ہیں اور یہ وائٹ بلڈ سیلز کی ایک قسم ہے۔

ٹی سیل جسم میں موجود ایسے خلیوں (سیل) کو تباہ کرتے ہیں جو وائرس سے متاثر ہوتے ہیں جب کہ اینٹی باڈیز وائرس کو ناکارہ بنانے کا کام کرتی ہیں۔

یورپی ملک نیدرلینڈز کی اوراسمس یونی ورسٹی میڈیکل سینٹر کے ماہر متعدی امراض اور تحقیق کے شریک مصنف روری دی وریز کا کہنا ہے کہ "ٹی سیل انفیکشن سے تحفظ فراہم نہیں کرتے بلکہ جسم سے وائرس ختم کرنے کے لیے ان کی ضرورت پیش آتی ہے۔"

اس تحقیق میں شریک مصنف روری دی وریز اور ان کے ساتھیوں نے امریکی ویکسین فائزر-بائیو ٹیک کی خوراک حاصل کرنے والے 121 ہیلتھ کئیر ورکرز کے خون کے نمونوں کا مطالعہ کیا۔

مطالعے سے یہ بات سامنے آئی کہ کرونا کی اصل قسم کے مقابلے میں جنوبی افریقی قسم کے خلاف اینٹی باڈیز دو سے چار گنا کمزور پائی گئیں۔

تحقیق کے شریک مصنف اور ماہر متعدی امراض روری دی وریز کا کہنا ہے کہ ٹی سیل کو پرواہ نہیں ہوتی چاہے وہ اصل یا کسی مختلف قسم کے وائرس کا سامنا کر رہے ہوں، یہ ہر قسم کے وائرس کے لیے ایک ہی طرح سے متحرک ہوتے ہیں۔

ان کے بقول، اگر وائرس کی قسم اینٹی باڈیز کو کمزور کر دیتی ہے تو اس کے نتیجے میں ٹی سیل ردِ عمل ظاہر کرتے ہیں اور وہ وائرس کو جسم میں پھیلنے سے روکتے ہیں اور اس سلسلے میں وہ شخص انفیکشن میں تو مبتلا ہو سکتا ہے لیکن وہ بیمار نہیں ہوتا۔

ماہر متعدی امراض روری دی وریز کا کہنا ہے کہ ہمیں اینٹی باڈیز کے ردِ عمل پر آنکھ بند کر کے یقین نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی یہ سمجھنا چاہیے کہ کرونا کی مختلف قسم کے خلاف اینٹی باڈیز کا ردِ عمل چار گنا کم ہے تو ویکسین درست کام نہیں کر رہی۔

انہوں نے کہا کہ اگر اینٹی باڈیز درست کام نہیں کر رہی تو جسم کے مدافعتی نظام میں موجود مختلف جُز ہمیں بیماری سے بچانے کا کام کرتے ہیں۔

دوسری جانب نیویارک یونی ورسٹی گروس مین اسکول آف میڈیسن کے ماہر متعدی امراض نتھینئیل لینڈاؤ (جو اس تحقیق کا حصہ نہیں ہیں) کا کہنا ہے کہ "سائنس دان اس بارے میں نہیں جانتے کہ مدافعتی نظام کا یہ رخ کتنا اہم ہے۔"

انہوں نے کہا کہ یہ بات تو واضح ہے کہ اینٹی باڈیز بہت اہم ہیں، جو بات ہم ابھی نہیں جانتے وہ یہ ہے کہ ٹی سیل کا ردِ عمل کتنا اہم ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG