رسائی کے لنکس

logo-print

تختِ بابری: مغل بادشاہ کا اجڑا ہوا تخت

چکوال کے سیاحتی مقام کلرکہار میں ایک تخت ہے جسے تختِ بابری کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ تخت کلرکہار میں ایسے مقام پر ہے جہاں سے پوری وادی کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ کہنے کو تو یہ تخت ہے لیکن یہ ہیروں موتیوں سے مزین نہیں بلکہ درِ حقیقت ایک تراشی گئی چٹان ہے۔

ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کے بانی ظہیر الدین بابر کے اعزاز میں بادشاہ کی فوج نے اس کے لیے چٹان تراش کر یہ تخت بنایا تھا۔ تختِ بابری پر حکومت کی جانب سے معلوماتی کتبہ بھی آویزاں ہے۔

کتبے پر درج عبارت بتاتی ہے کہ کلر کہار میں مختصر قیام کے دوران اسی تخت پر کھڑے ہو کر بابر اپنی فوج سے خطاب کرتا اور احکامات جاری کرتا تھا۔ حکومتِ پاکستان کی تحویل میں آنے کے بعد اس مقام کو قومی ورثے میں شامل کیا گیا ہے۔

یہ جگہ تاریخی تو ہے لیکن زیادہ سیاحوں کی نظروں میں نہیں ہے۔ یہ گہرے سرمئی رنگ کی ایک چھوٹی سی یادگار ہے جس کے بورڈ پر کبھی کسی سیاح کی نظر پڑ جائے تو وہ دیکھنے چل پڑتا ہے۔

ایک ڈھلوانی راستہ اس چٹان کی جانب لے کر جاتا ہے جس پر بنی سیڑھیاں پتھر کے بنے تخت پر ختم ہو رہی ہیں۔ تاریخ جاننے کے علاوہ یہاں دیکھنے کو کچھ خاص نہیں۔

مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر نے تو یہاں ایک باغ بھی بنوایا تھا لیکن اب 'باغِ صفا' کے احاطے میں جھاڑیوں کے سوا کچھ باقی نہیں رہا۔ تختِ بابری کا ذکر بابر کی آپ بیتی میں بھی درج ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG