رسائی کے لنکس

logo-print

جون کے آخر میں دوحہ میں بین الافغان مذاکرات متوقع


فائل فوٹو

افغانستان میں لڑائیوں میں مصروف دونوں فریق، طالبان اور حکومت امن مذاکرات شروع کرنے پر آمادہ ہو گئے ہیں تاکہ دو عشروں سے جاری اس خون خرابے کا کوئی سیاسی تصفیہ ڈھونڈا جا سکے۔ ان مذاکرات کا طویل عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ امکان یہ ہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات اس ماہ کے آخر میں قطر میں ہوں گے۔

اتوار کے روز طالبان کے ایک ترجمان نے وائس آف امریکہ سے بات چیت کے دوران اس نئی پیش رفت کے بارے میں تصدیق کی، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ مذاکرات کب شروع ہوں گے۔

افغان حکومت سے تعلق رکھنے والے ایک ذرائع کے وی او اے کو بتایا کہ صدر اشرف غنی نے دوحہ میں بین الافغان مذاکرات کی قطر کی جانب سے میزبانی کی تجویز قبول کر لی ہے، جہاں طالبان کا سیاسی دفتر قائم ہے۔

صدر اشرف غنی کے ایک ترجمان صادق صدیقی نے اتوار کو اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ افغان حکومت صرف پہلی ملاقات دوحہ میں منعقد کرائے جانے پر رضامند ہوئی ہے۔ تاہم ابھی تک براہ راست مذاکرات کے لیے کسی مقام کے تعین پر کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے۔

قطر طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی بھی میزبانی کر چکا ہے جس کے نتیجے میں 29 فروری کو دونوں کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ طے ہونے کی راہ ہموار ہوئی۔ ان مذاکرات کا مقصد 19 سال سے جاری جنگ کا خاتمہ تھا۔

افغان جنگ امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ ہے۔

اس معاہدے میں یہ تقاضا بھی کیا گیا ہے کہ تنازع کے دونوں فریق یعنی افغان حکومت اور طالبان، عشروں سے جاری جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے امن مذاکرات شروع کریں۔

قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ بین الافٖغان مذاکرات ہمارے قیدیوں کی رہائی کے بعد منعقد ہوں گے۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدےکی ایک شق کے مطابق افغان حکومت اپنے ایک ہزار فوجیوں کی رہائی کے بدلے میں پانچ ہزار طالبان قیدیوں کو آزاد کرے گی۔

افغان حکومت پہلے ہی تین ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کر رہی ہے جب کہ پچھلے ہفتے صدر غنی نے کہا تھا کہ باقی رہ جانے والے دو ہزار قیدیوں بہت جلد چھوڑ دیا جائے گا۔ جب کہ طالبان اب تک 600 کے لگ بھگ افغان فوجی رہا کر چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ معاہدے کے تحت ایک ہفتے کے اندر قیدیوں کے تبادلے کے لیے تیار ہیں۔

ایک ایسے وقت میں جب کہ قیدیوں کی رہائی عمل میں آ رہی ہے اور حالات بین الافغان مذاکرات کی جانب بڑھ رہے ہیں، افغان عہدے داروں نے اتوار کے روز طالبان پر الزام لگایا کہ انہوں نے ملک بھر میں صرف پچھلے ہفتے کے دوران اپنے حملوں میں 400 سے زیادہ فوجیوں کو ہلاک اور زخمی کر دیا ہے۔ انہوں نے طالبان پر یہ الزام بھی لگایا کہ کابل میں ایک مسجد پر بم دھماکوں میں، جس میں ایک ممتاز عالم دین ہلاک ہوئے تھے، طالبان کا ہاتھ تھا۔جب کہ طالبان نے اس سے انکار کیا ہے۔

امریکہ طالبان معاہدہ، واشنگٹن پر 14 مہینوں کے اندر افغانستان سے تمام امریکی اور اتحادی فوجی، غیرسفارتی اہل کار، پرائیویٹ سیکیورٹی کنٹریکٹر، تربیت کار، مشیر اور مددگار سروسز کے تمام ارکان کو نکالنے کی پابندی بھی لگاتا ہے۔

امریکہ معاہدہ ہونے کے بعد سے افغانستان سے اپنے کئی ہزار فوجی واپس بلا چکا ہے۔ اس کے بدلے میں طالبان نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ القاعدہ جیسے دہشت گرد گروپس کو دوسرے ملکوں کے خلاف افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG