رسائی کے لنکس

logo-print

قندوز حملے سے متعلق الزامات بے بنیاد ہیں: پاکستانی فوج


’آئی ایس پی آر‘ سے منگل کی شام جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ افغان عہدیداروں کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات مکمل طور پر بے بنیاد، غیر ضروری اور نقصان دہ ہیں۔

پاکستانی فوج کے ترجمان نے ایک بیان افغان میڈیا کے بعض حصوں میں سامنے آنے والی اُن خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں کہا جا رہا ہے کہ قندوز میں حملے میں پاکستانی سکیورٹی عہدیدار ملوث ہیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ سے منگل کی شام جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ افغان عہدیداروں کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات مکمل طور پر بے بنیاد، غیر ضروری اور نقصان دہ ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان پہلے ہی افغانوں کی زیر قیادت امن و مصالحت کے عمل کی حمایت کرتا رہا ہے اور قندوز پر حملے کی مذمت کی بھی گئی۔ فوج کے ترجمان کی طرف سے کہا گیا کہ اس صورت حال میں الزام تراشی ناقابل فہم ہے۔

فوج کے ترجمان کی طرف سے کہا گیا کہ اس طرح کی الزامات غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے اور حقیقی خطرے سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ ایسے رویے کو نا دہرایا جائے۔

اُدھر افغانستان کے شمالی شہر قندوز میں منگل کو ایک بار پھر لڑائی کی اطلاعات ملی ہیں جہاں طالبان نے سکیورٹی فورسز پر حملے کیے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شہر کے مرکزی علاقے کے قریب طالبان اور افغان سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

گزشتہ ہفتے طالبان نے مختلف اطراف سے افغانستان کے اہم شہر قندوز پر بڑا حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا تھا جسے چھڑانے کے لیے افغان فوج نے بین الاقوامی اتحادی افواج کی مدد سے ایک بڑی کارروائی کی اور تین دن بعد شہر پر قبضہ بحال کرنے کا اعلان کر دیا۔

اُدھر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ جنگجوؤں نے منگل کی صبح افغان فورسز پر حملہ کیا اور قندوز کے مختلف مقامات پر کئی گھنٹوں تک لڑائی جاری رہی۔

خبر رساں ادارے ’روئیٹرز‘ کے مطابق موٹر سائیکلوں پر سوار طالبان نے حملے کیے۔

قندوز کے قائم مقام گورنر حمد اللہ دانشی نے کہا ہے کہ طالبان جنگجوؤں نے ایک نئی حکمت عملی اپنائی ہے، جس کے تحت وہ سکیورٹی فورسز کی چوکیوں پر حملوں کے بعد رہائشی علاقوں میں چھپ جاتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اس حکمت عملی کا مقصد مقامی رہائشیوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا ہے تاکہ وہ اپنے معمولات زندگی بحال نا کر سکیں۔

واضح رہے کہ ایک روز قبل افغان عہدیداروں نے کہا تھا کہ قندوز میں حالات بہتر ہو رہے ہیں اور وہاں کچھ دکانیں بھی کھل گئی ہیں۔

قندوز سے طالبان کا قبضہ چھڑانے کے لیے مقامی فورسز کو افغانستان میں موجود بین الاقوامی اتحادی افواج کی معاونت بھی حاصل تھی۔

اس دوران بین الاقوامی تنظیم ’ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ کے زیر انتظام قندوز میں چلنے والا ایک اسپتال بھی فضائی بمباری کی زد میں آیا۔ ’ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ کے مطابق بمباری سے اسپتال میں طبی عملے، بچوں اور مریضوں سمیت 22 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس حملے کو تنظیم نے ’جنگی جرم‘ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی اور قندوز سے اپنے عملے کو منتقل کر دیا۔

افغانستان کے شمالی شہر قندوز میں بین الاقوامی طبی امدادی تنظیم کے اسپتال پر بمباری کے واقعے کی جہاں بڑے پیمانے پر مذمت کی جا رہی ہے وہیں امریکہ نے اس کی مکمل تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔

افغانستان میں اعلیٰ ترین امریکی کمانڈر جنرل جان کیمبل نے صحافیوں کو بتایا کہ اس فضائی کارروائی کے لیے افغان فورسز نے درخواست کی تھی۔ "افغان فورسز نے اس کا مطالبہ کیا تھا کیونکہ وہ براہ راست دہشت گردوں کی زد میں تھے۔"

دریں اثنا طالبان نے پیر کی شب کابل میں ایک حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ طالبان نے دعویٰ کیا کہ کابل میں جس عمارت کو نشانہ بنایا گیا وہ افغان انٹیلی جنس ایجنسی کی تھی۔

افغان عہدیداروں نے منگل کی صبح بتایا کہ 10 گھنٹے کے محاصرے اور لڑائی کے دوران تین خودکش حملہ آوروں کا ہلاک کیا گیا۔

حکام کے مطابق کارروائی میں سات پولیس افسر زخمی بھی ہوئے لیکن اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

خبر رساں ادارے ’روئیٹرز‘ کے مطابق جس علاقے میں یہ حملہ کیا گیا اُس کے قریب ہی روس کا سفارت خانہ بھی واقع ہے۔

XS
SM
MD
LG