رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان کے حملے میں 16 افغان فوجی ہلاک


فائل

افغانستان میں طالبان کی طرف سے فائربندی کے سمجھوتے میں توسیع سے انکار کے بعد آج جمعرات کے روز ملک کے شمال مشرق میں تاجک سرحد کے قریب حملے میں 16 افغان فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ علی الصبح ہونے والے اس حملے میں متعدد سیکیورٹی اہلکار بھی لاپتا ہو گئے ہیں۔ یہ حملہ چائے آب ڈسٹرکٹ میں ایک پولیس چوکی پر کیا گیا۔

مقامی حکومت کے ترجمان صنعت اللہ ٹیمور نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ حملہ آوروں نے افغان چوکیوں کے ساتھ ایک مختصر جھڑپ کے بعد یتیم ٹاپا چوکی کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ ترجمان نے تصدیق کی کہ حملے کے بعد لاپتا ہونے والے سات پولیس اہلکاروں نے بعد میں اپنے صدر دفتر سے رابطہ کیا ہے۔

اُدھر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تصدیق کی ہے کہ یہ حملہ طالبان کے جنگجوؤں نے کیا تھا۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے دہشت گرد بھی طالبان کے ساتھ ملکر حملے کر رہے ہیں۔

ایک اور واقعے میں جنوب مشرقی صوبے لوگر میں ایک بم حملہ ہوا جس میں کم سے کم 8 افراد ہلاک ہو گئے۔ افغانستان کے ایوان صدر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بھی چرخ ضلعے میں اس بم حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس میں متعدد سویلین ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم، اس بیان میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد نہیں بتائی گئی ہے۔

اس حملے کی ذمہ داری ابھی کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG