رسائی کے لنکس

logo-print

کابل: طالبان شدت پسندوں کا گیسٹ ہاؤس پر حملہ


جوں جوں پانچ اپریل کو ملک میں صدارتی انتخاب کی تاریخ قریب آرہی ہے، حملوں کے خدشے کے پیش نظر افغان عہدے دار انتہائی چوکنہ ہیں

طالبان شدت پسندوں نے جمعے کے روز افغان دارلحکومت میں غیرملکیوں کے زیرِ استعمال ایک گئیسٹ ہاؤس پر حملہ کیا، جس کے بعد گولیوں کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد پھنس کر رہ گئے۔

اہل کاروں نے بتایا ہے کہ خودکش حملہ آوروں نے کابل کے ایک گئیسٹ ہاؤس کا محاصرہ کر رکھا تھا، اور حملے کے وقت وہاں چھ افراد موجود تھے جن میں سے ایک غائب ہوگیا۔

علاقے میں گولیوں کے تبادلے کی آوازیں سنی جاتی رہیں۔

امریکہ میں قائم ایک امدادی گروپ، ’روٹس فور پیس‘ نے فرانسسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ یہ گئیسٹ ہاؤس اُن کے زیر استعمال تھا، اور یہ کہ اِس حملے میں تین افغان زخمی ہوئے۔

طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ گئیسٹ ہاؤس کو کلیسا کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔

ایسے میں جب پانچ اپریل کو ملک میں صدارتی انتخاب کی تاریخ قریب آتی جا رہی ہے، حملوں کے خدشے کے پیش نظر افغان عہدے دار انتہائی چوکنہ ہیں۔

طالبان باغیوں نے انتخابات کو سبوتاژ کرنے کا عزم کر رکھا ہے، جسے افغانستان کے استحکام کے لیے اہمیت کے حامل سمجھا رہا ہے، ایسے میں جب اس سال کے اواخر میں بین الاقوامی فوجیں لڑائی کا مشن ختم کرنے والی ہیں۔

کامیاب انتخابات کی صورت میں، جمہوری طریقے سے اقتدار کی منتقلی کی یہ پہلی مثال ہوگی۔
XS
SM
MD
LG