رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان: فوجی تربیتی مرکز پر طالبان کے حملے میں 36 افراد ہلاک


سیکورٹی اہل کار کابل کے ایک حساس علاقے میں خودکش حملے کے بعد محاصرہ کیے ہوئے ہیں۔ 15 جنوری 2019

پیر کے روز وسطی افغانستان میں ایک سیکورٹی تنصیب پر طالبان کے حملے میں 36 افراد ہلاک، جب کہ58زخمی ہوئے۔

خبررساں اداروں روئیٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے بتایا ہے کہ حملہ آوروں نے بارود سے بھری ہوئی ایک گاڑی کابل کے مغرب میں واقع صوبے میدان وردک میں نیشنل ڈائریکٹوریٹ فار سیکورٹی کے تربیتی مرکز میں لے جا کر دھماکہ کیا۔

اطلاعات کے مطابق کم ازکم دو مسلح افراد دھماکے کے بعد وہاں پہنچے جنہوں نے سیکورٹی تنصیب کے اندر جا کر باقی ماندہ تمام افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

نیوز ایجنسی کے مطابق کابل میں وزارت دفاع کے ایک سینیر عہدے دار نے اپنا نام پوشیدہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ ہمیں فوجی تربیتی مرکز میں دھماکے میں 36 لوگوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں 8 سپیشل کمانڈوز بھی شامل تھے۔

مقامی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ حملے میں بڑی تعداد میں فوجی اور این ڈی ایس کے اہل کار ہلاک ہوئے، لیکن ابھی تک سرکاری طور پر ہلاک ہونے والوں کی تعداد کی تصدیق نہیں کی گئی۔

ایک انتہائی محفوظ فوجی مرکز پر بڑا حملہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ طالبان کا اپنی عسکری کارروائیوں پر اعتماد بڑھ رہا ہے، اگرچہ وہ سفارتی بات چیت کے ذریعے تنازع کے پرامن حل کی کوششوں پر بھی اتفاق کر رہے ہیں۔

طالبان عسکریت پسند غیر ملکی فورسز کو ملک سے نکالنے اور اپنی انداز کا سخت گیر اسلامی قانون نافذ کرنے کے لیے لڑ رہے ہیں۔ طالبان کے ترجمان ذبح اللہ مجاہد نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے 190 افراد کی ہلاکتوں کا دعویٰ کیا ہے۔

افغان حکومت اس مہلک ترین حملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔

اس حملے کی اطلاعات ایک ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب افغان طالبان کا ایک وفد دوحا میں امریکی وفد سے افغانستان کے تنازع کے حل کے لیے دو روزہ مذاکرات کر رہا ہے۔ امریکی وفد کی قیادت نمائندہ خصوصی برائے افغان امن اور مصالحت زلمے خلیل زاد کر رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG